اسلام آباد( پاک ترک نیوز) ملک کی سب سے بڑی آئل ریفائنری پاک عرب ریفائنری لمیٹڈ (پارکو) نے ریفائنری اپ گریڈیشن معاہدے پر دستخط کرنے کے لیے حکومت سے مزید تین ماہ کی مہلت مانگ لی ہے۔پیٹرولیم ڈویژن نے اس حوالے سے کابینہ کمیٹی برائے توانائی (سی سی او ای) کو سمری ارسال کردی ہے، جس میں معاہدے کی آخری تاریخ 24 اکتوبر 2026 سے بڑھا کر 24 جنوری 2027 کرنے کی منظوری طلب کی گئی ہے۔سمری کے مطابق پارکو کو اپنے بورڈ سے معاہدے کی منظوری لینے اور ضروری کارروائی مکمل کرنے کے لیے اضافی وقت درکار ہے۔ مجوزہ توسیع کے دوران کمپنی کو یورو فائیو معیار سے کم پیٹرولیم مصنوعات کی پیداوار اور فروخت جاری رکھنے کی اجازت دینے کی تجویز بھی دی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ضلع باغ میں دھرنے کا خاتمہ، معمولاتِ زندگی بحال
پیٹرولیم ڈویژن کے مطابق پارکو ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کی مجموعی مقامی پیداوار میں تقریباً 38 فیصد حصہ رکھتی ہے۔ ڈیڈ لائن میں توسیع نہ ہونے کی صورت میں ملکی سطح پر پیٹرولیم مصنوعات کی فراہمی متاثر ہونے اور قلت پیدا ہونے کا خدشہ ہے، جس کے باعث اضافی درآمدات کرنا پڑ سکتی ہیں اور زرمبادلہ کے ذخائر پر دباؤ بڑھ سکتا ہے۔حکومتی سمری میں ہائی اسپیڈ ڈیزل پر ڈیڈ ڈیوٹی میں دی گئی کمی برقرار رکھنے کی بھی تجویز ہے۔ اس کے تحت 25 فیصد کی چار اقساط میں ادائیگی کا شیڈول سی سی او ای کی جانب سے توسیع کی منظوری کے بعد شروع ہوگا۔واضح رہے کہ حکومت نے موجودہ آئل ریفائنریز کی اپ گریڈیشن کے لیے 2023 کی پالیسی میں ترامیم کی تھیں، جن کا مقصد یورو فائیو معیار کی پیٹرولیم مصنوعات کی پیداوار بڑھانا اور فرنس آئل کی پیداوار کم کرنا ہے۔اس پالیسی کے تحت ریفائنریز کو انٹر اسٹیٹ گیس سسٹمز (آئی ایس جی ایس) کے ساتھ اپ گریڈیشن معاہدے کرنے تھے۔ نیشنل ریفائنری، پاکستان ریفائنری، سینرجیکو اور اٹک ریفائنری پہلے ہی حکومت کے ساتھ معاہدے کرچکی ہیں، تاہم پارکو کا معاہدہ تاحال اپنے بورڈ کی منظوری کے مراحل میں ہے۔
پیٹرولیم ڈویژن کا کہنا ہے کہ مجوزہ توسیع سے ایک طرف پارکو کو ضروری منظوریوں کے لیے وقت مل جائے گا، جبکہ دوسری جانب ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کی بلا تعطل فراہمی برقرار رکھنے میں مدد ملے گی۔







