لاہور(پاک ترک نیوز)ذرا تصور کریں! کوئی چیز آپ کی آنکھوں کے سامنے موجود ہو، لیکن انفراریڈ کیمرے کو نظر ہی نہ آئے! نہ کوئی جادو، نہ کوئی فلمی کرشمہ، بلکہ سائنس کی حیران کن پیش رفت! امریکی اور ڈنمارک کے محققین نے ایک ایسا تھری ڈی تھرمل کلوک تیار کیا ہے جو حرارت کو چیز کے گرد سے گزار کر اسے تھرمل کیمرے کی نظروں سے اوجھل کرسکتا ہے۔ کیسے؟ دیکھیے یہ رپورٹ!
اب تک انفراریڈ کیمرے حرارت کے ذریعے انسانوں، مشینوں اور دیگر اشیا کی موجودگی کا پتا لگا سکتے تھے، چاہے اندھیرا ہی کیوں نہ ہو۔ لیکن سائنس دانوں نے اب حرارت کے اسی اصول کو چیلنج کرنے والی ٹیکنالوجی کا عملی مظاہرہ کیا ہے۔
یونیورسٹی آف الینوائے اربانا شیمپین اور ٹیکنیکل یونیورسٹی آف ڈنمارک کے محققین نے ایک ایسا تھری ڈی کلوک تیار کیا ہے جو حرارت کو روکنے کے بجائے اس کا راستہ بدل دیتا ہے۔ نتیجہ یہ کہ انفراریڈ کیمرے پر چھپی ہوئی چیز کا حرارتی نقش ایسا دکھائی دیتا ہے جیسے وہاں کوئی چیز موجود ہی نہ ہو۔
اس ٹیکنالوجی کی خاص بات یہ ہے کہ یہ مختلف سمتوں سے آنے والی حرارت کے باوجود کام کرسکتی ہے۔ تجربات میں پیچیدہ تھری ڈی ساختوں، حتیٰ کہ انسانی سر جیسی شکلوں کو بھی تھرمل امیجنگ سے چھپانے کا مظاہرہ کیا گیا۔
اس کلوک کو تیار کرنے کے لیے تھری ڈی پرنٹنگ سے ایلومینیم کا باریک جالی دار ڈھانچا بنایا گیا، جبکہ اس کے خالی حصوں میں کم حرارتی موصلیت کے بجائے کم حرارت گزارنے والا ربڑ جیسا مادہ بھرا گیا، تاکہ حرارت کے بہاؤ کو قابو کیا جاسکے۔
یہ بھی پڑھیں: اپوزیشن کو انتخابی اصلاحات کی کمیٹیوں میں شرکت کرنی چاہیے، شیری رحمان
محققین کے مطابق یہ ٹیکنالوجی مستقبل میں مائیکروچپس کو ٹھنڈا رکھنے، حساس الیکٹرانکس کو شدید درجہ حرارت سے بچانے اور تھرمل نگرانی سے بچاؤ میں مدد دے سکتی ہے۔
تاہم ایک اہم حد بھی موجود ہے: موجودہ نظام بیرونی حرارت کو موڑنے اور چھپی ہوئی جگہ کو محفوظ رکھنے کے لیے آزمایا گیا ہے۔ خود حرارت پیدا کرنے والی اشیا کو مکمل طور پر چھپانا ابھی اگلا ہدف ہے۔





