واشنگٹن ( پاک ترک نیوز) امریکا میں الیکٹرک ایئر ٹیکسیوں کو تجارتی بنیادوں پر چلانے کے لیے ضابطہ جاتی تقاضے اہم مرحلے میں داخل ہوگئے ۔ امریکی فیڈرل ایوی ایشن ایڈمنسٹریشن (FAA) کے نئے آزمائشی پروگرام کا مقصد ایسی جدید پروازوں کو محفوظ طریقے سے فضائی نظام میں شامل کرنا ہے، تاہم آزمائشی پروازیں مکمل کرلینا مسافروں کو باقاعدہ تجارتی سروس فراہم کرنے کی اجازت کے مترادف نہیں۔FAA کے مطابق الیکٹرک عمودی ٹیک آف اور لینڈنگ کرنے والے طیاروں، یعنی eVTOL، کے لیے بنائے گئے انٹیگریشن پائلٹ پروگرام (eIPP) کے ذریعے حقیقی فضائی ماحول میں تجربات کیے جا رہے ہیں۔ ان تجربات سے حاصل ہونے والے اعداد و شمار مستقبل کے حفاظتی قواعد اور تجارتی آپریشنز کے طریقۂ کار کی تیاری میں مدد دیں گے۔
اکتوبر 2026 کی تازہ رپورٹ کے مطابق، ایک ضابطہ جاتی عہدیدار نے اشارہ دیا ہے کہ ایئر ٹیکسی کے لیے طیارے کا ٹائپ سرٹیفکیٹ حاصل کرنا بعض صورتوں میں eIPP پروگرام کے تحت تجارتی پروازوں کی منظوری حاصل کرنے سے زیادہ آسان ہوسکتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ طیارے کے ڈیزائن اور فضائی قابلیت کی منظوری کے علاوہ مخصوص روٹس، آپریشنز اور حفاظتی انتظامات کی اجازت بھی اہم ہوگی۔جوبی ایوی ایشن نے ستمبر 2026 میں ٹیکساس میں اپنے الیکٹرک ایئر ٹیکسی طیارے کی آزمائشی پروازیں شروع کیں۔ یہ سرگرمیاں ٹیکساس ڈیپارٹمنٹ آف ٹرانسپورٹیشن کے اشتراک سے چلنے والے منصوبے کا حصہ تھیں۔ ان پروازوں میں فورٹ ورتھ، ڈلاس فورٹ ورتھ انٹرنیشنل ایئرپورٹ اور شہری مراکز کے درمیان ممکنہ روٹس کا جائزہ لیا گیا۔اس پروگرام کے ذریعے حکام یہ جانچ رہے ہیں کہ الیکٹرک ایئر ٹیکسیاں مصروف فضائی حدود میں کس طرح کام کرسکتی ہیں، ہوائی اڈوں کے ساتھ رابطہ کیسے برقرار رکھیں گی اور مستقبل میں مسافروں کو محفوظ طریقے سے کیسے منتقل کیا جاسکے گا۔امریکی فیڈرل ایوی ایشن ایڈمنسٹریشن نے 2026 میں اس پروگرام کے لیے آٹھ منصوبوں کا انتخاب کیا، جن کا دائرہ 28 ریاستوں تک پھیلا ہوا ہے۔ ان میں شہری ایئر ٹیکسی سروس، علاقائی سفر، کارگو کی ترسیل، طبی امداد اور خودکار پروازوں سے متعلق تجربات شامل ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: آئی سی سی رینکنگ جاری، بابر اعظم کی تنزلی، شبمن گل کی پہلی پوزیشن برقرار
امریکی حکومتی احتسابی دفتر (GAO) کے مطابق eVTOL طیاروں کی ٹائپ سرٹیفکیشن کے لیے مخصوص فضائی معیار، تکنیکی جانچ اور زمینی و فضائی آزمائشیں ضروری ہیں۔ اس کے علاوہ امریکی فضائی حدود اور تجارتی آپریشنز سے متعلق دیگر تقاضے بھی لاگو ہوسکتے ہیں۔












