اسلام آباد ( پاک ترک نیوز) حکومت نے منی لانڈرنگ کی روک تھام کے نظام کا جائزہ لیتے ہوئے بینکوں کے لیے نقد لین دین کی رپورٹنگ کی حد 20 لاکھ روپے سے بڑھا کر 30 لاکھ روپے کر دی ہے۔
نئی حد کے تحت مقررہ رقم کے برابر یا اس سے زیادہ نقد لین دین کی تفصیلات اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے مالیاتی نگرانی یونٹ (ایف ایم یو) کو رپورٹ کرنا ہوں گی۔اس اقدام کی منظوری منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی مالی معاونت کی روک تھام سے متعلق قومی ایگزیکٹو کمیٹی نے دی۔ کمیٹی کی سربراہی وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کرتے ہیں۔رپورٹ کے مطابق نقد لین دین کی رپورٹ (سی ٹی آر) اس وقت جمع کرائی جاتی ہے جب نقد رقم کا لین دین مقررہ حد کے برابر یا اس سے زیادہ ہو، جبکہ مشکوک لین دین کی رپورٹ (ایس ٹی آر) ایسی سرگرمی کی نشاندہی پر دی جاتی ہے جس میں منی لانڈرنگ یا دہشت گردی کی مالی معاونت کا شبہ ہو۔ دونوں رپورٹس کا مقصد مالیاتی سرگرمیوں کی نگرانی اور غیر قانونی رقوم کی نشاندہی میں متعلقہ اداروں کی مدد کرنا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: سعودی کابینہ کا اجلاس، ایران سے مذاکرات اور پاکستان و قطر کی ثالثی کوششوں کا جائزہ
قومی ایگزیکٹو کمیٹی نے پاکستان کے انسدادِ منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی مالی معاونت کی روک تھام کے نظام کو مزید مؤثر بنانے کے لیے متعدد دیگر اقدامات کی بھی منظوری دی۔










