اسلام آباد(پاک ترک نیوز) وفاقی وزیر موسمیاتی تبدیلی ڈاکٹر مصدق ملک نے کہا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی عصرِ حاضر کا سب سے بڑا چیلنج ہے، عالمی درجہ حرارت میں اضافے سے گلیشیئرز تیزی سے پگھل رہے ہیں، جس کے باعث تباہ کن سیلاب اور دیگر قدرتی آفات جنم لے رہی ہیں۔
اسلام آباد میں پری کوپ 31 ڈائیلاگ سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر مصدق ملک نے کہا کہ پاکستان عالمی گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں صرف ایک فیصد حصہ ڈالتا ہے، لیکن موسمیاتی تبدیلیوں کے شدید اثرات کا سامنا کر رہا ہے۔ ان کے مطابق دنیا کے تین ممالک مجموعی گرین ہاؤس گیسوں کے 45 سے 46 فیصد اخراج کے ذمہ دار ہیں۔
وفاقی وزیر نے مطالبہ کیا کہ موسمیاتی تبدیلی سے متاثرہ ممالک کو گرین فنانسنگ میں ترجیح دی جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ گرین فنانسنگ کا بڑا حصہ زیادہ اخراج کرنے والے ممالک کو مل رہا ہے، جبکہ پاکستان اور نیپال جیسے ممالک کو موسمیاتی تباہ کاریوں سے نمٹنے کے لیے مناسب مالی وسائل درکار ہیں۔
ڈاکٹر مصدق ملک نے ہنزہ کی بستی حسن آباد میں ششپر گلیشیئر کے واقعے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ گلیشیائی تباہی صرف گھروں اور املاک کو نقصان نہیں پہنچاتی بلکہ لوگوں کے روزگار، معاشرتی زندگی اور ثقافتی رشتوں کو بھی متاثر کرتی ہے۔ انہوں نے ایک بچی کے الفاظ کا ذکر کیا کہ ’’میرا بچپن گھر کے ملبے تلے دب گیا۔‘‘
وفاقی وزیر کے مطابق گلیشیئرز کے پگھلنے سے پیدا ہونے والے خطرات پہاڑی علاقوں تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ مستقبل میں میدانی علاقوں کو بھی متاثر کر سکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان نے موسمیاتی تبدیلیوں پر مشترکہ عالمی تحقیق کی دعوت دی ہے اور فرانس، جرمنی اور اٹلی سمیت دوست ممالک کے ساتھ تعاون جاری ہے۔
یہ بھی پڑھیں: اسٹیٹ بینک آج مانیٹری پالیسی کا اعلان کرے گا، شرح سود میں اضافے کا امکان
مصدق ملک نے زور دیا کہ موسمیاتی تباہ کاریوں سے نمٹنے کے لیے عالمی برادری مشترکہ کوششیں کرے، اخراج میں کمی لائے اور متاثرہ ممالک کو مالی معاونت اور تحقیق کے وسائل فراہم کرے۔







