لاہور( پاک ترک نیوز) ذرا تصور کریں ۔۔۔آپ کے پاس کوئی اضافی کام نہیں، آمدن بڑھانے کی کوئی فکر نہیں، لیکن ہر ماہ آپ کے اکاؤنٹ میں ہزاروں ڈالر آ رہے ہیں! امریکا میں ایک خاتون کو پورے ایک سال تک ہر ماہ تیرہ سو تیس ڈالر دیے گئے، وہ بھی بغیر کسی شرط کے! مگر کیا مفت رقم واقعی زندگی بدل سکتی ہے؟ یا مصنوعی ذہانت انسانوں سے روزگار چھیننے کے بعد انہیں پیسے دے کر خاموش کر دے گی؟ دنیا بھر میں ایک نئی بحث چھڑ چکی ہے!
امریکی ریاست کیلی فورنیا کے شہر سانتا کروز میں پینتیس سالہ میکول ویکس کو دسمبر دو ہزار چوبیس میں ایک فون کال موصول ہوئی۔۔۔ خبر ایسی کہ سن کر زندگی بدلنے کی امید جاگ اٹھی!ایک سال تک ہر ماہ تیرہ سو تیس ڈالر! نہ خرچ کرنے کی پابندی، نہ رقم استعمال کرنے کا کوئی خاص طریقہ!گھروں کی صفائی کا جزوقتی کام کرنے والی، اکیلی ماں میکول کے لیے یہ رقم نئی شروعات کی امید تھی۔۔۔ لیکن حقیقت یہ بھی ہے کہ پیسہ ملنے سے زندگی کے تمام مسائل خودبخود ختم نہیں ہوتے! یہ صرف ایک خاتون کی کہانی نہیں۔۔۔ بلکہ مستقبل کی معیشت کا ایک بڑا تجربہ ہے!ایلون مسک، سیم آلٹمین اور مصنوعی ذہانت کے شعبے کی دوسری اہم شخصیات بھی اس تصور کی حمایت کر چکی ہیں کہ اگر جدید ٹیکنالوجی انسانوں کی ملازمتیں ختم کرتی ہے تو لوگوں کو براہ راست رقم فراہم کرنا بے روزگاری کے اثرات کم کرنے کا ایک راستہ ہو سکتا ہے۔مگر سوال یہ ہے۔۔۔ جب مشینیں کام کریں گی تو انسانوں کا خرچ کون اٹھائے گا؟
یہ بھی پڑھیں: چین نے سونے کی درآمد کے تمام ریکارڈ توڑ دیے، ڈالر پر انحصار کم کرنے کی کوشش
امریکا کی سلیکون ویلی میں اس سوال کا جواب تلاش کرنے کے لیے عملی تجربات بھی جاری ہیں!گوگل نے دو ہزار بائیس میں سان فرانسسکو کے علاقے میں بنیادی آمدن کے چھ منصوبوں کے لیے پانچ کروڑ ڈالر فراہم کیے۔ ان منصوبوں میں شامل سیکڑوں افراد کو ہر ماہ تقریباً ایک ہزار ڈالر دیے جا رہے ہیں، جبکہ ماہرین ان کی زندگیوں پر پڑنے والے اثرات کا جائزہ لے رہے ہیں۔حامیوں کا دعویٰ ہے کہ براہ راست مالی مدد غربت کم کرنے اور زندگی کا معیار بہتر بنانے میں مدد دے سکتی ہے۔۔۔ لیکن مخالفین خبردار کرتے ہیں کہ بغیر کسی شرط کے رقم دینے سے کام کرنے کی ترغیب متاثر ہونے کا خدشہ بھی موجود ہے۔
اب دنیا ایک ایسے موڑ پر کھڑی ہے جہاں مصنوعی ذہانت صرف کام کرنے کا طریقہ نہیں بدل رہی۔۔۔ بلکہ روزگار، آمدن اور انسانی مستقبل کے بارے میں بنیادی سوال اٹھا رہی ہے!کیا آنے والے وقت میں تنخواہ کمانے کے بجائے ہر ماہ رقم ملنا معمول بن جائے گا؟ یا مفت پیسوں کا یہ تجربہ صرف ایک عارضی سہارا ثابت ہوگا؟












