پشاور(پاک ترک نیوز ) پاکستان میں زیر تعلیم افغان میڈیکل طلبہ نے حکومت سے انسانی بنیادوں پر ریلیف دینے اور اپنی تعلیم مکمل کرنے کی اجازت دینے کا مطالبہ کردیا ہے۔
افغان میڈیکل طلبہ کے فوکل پرسن عنایت اللہ مہمند کے مطابق خیبر پختونخوا، سندھ اور پنجاب کی عدالتوں نے افغان طلبہ کو میڈیکل اور ڈینٹل کالجز سے نکالنے کے احکامات کے خلاف عارضی حکم امتناع جاری کر رکھا ہے، تاہم پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کے جواب کا انتظار ہے۔
عنایت اللہ مہمند، جو خیبر میڈیکل کالج پشاور میں ایم بی بی ایس کے آخری سال کے طالب علم ہیں، کا کہنا ہے کہ عدالتی احکامات سے وقتی ریلیف تو ملا ہے لیکن مستقل مسئلہ پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کے جواب کے بعد ہی حل ہوگا۔
ان کے مطابق میڈیکل اور ڈینٹل کالجز کے امتحانات قریب ہیں، تاہم طلبہ گزشتہ ماہ جاری ہونے والے ان احکامات کے باعث ذہنی دباؤ کا شکار ہیں، جس کی وجہ سے ان کی امتحانات کی تیاری بھی متاثر ہوئی ہے۔
پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل نے میڈیکل اور ڈینٹل کالجز کو افغان طلبہ کی تعلیمی اور انتظامی کارروائی مکمل کرنے اور ان کی واپسی میں سہولت فراہم کرنے کی ہدایت کی تھی۔
پاکستان بھر کے مختلف میڈیکل اور ڈینٹل کالجز میں ایک ہزار سے زائد افغان طلبہ زیر تعلیم ہیں، جن میں تقریباً 350 طالبات بھی شامل ہیں۔
ان میں تقریباً 800 طلبہ اعلیٰ تعلیمی کمیشن کے علامہ اقبال اسکالرشپ پروگرام کے تحت پاکستان آئے تھے۔ ان طلبہ نے افغانستان میں داخلہ امتحان دیا تھا۔ افغان طلبہ کے لیے مخصوص نشستوں پر امیدواروں کا انتخاب میڈیکل اینڈ ڈینٹل کالج داخلہ امتحان کے ذریعے بھی کیا جاتا ہے، جبکہ دیگر طلبہ مختلف سرکاری معاونتی پروگراموں اور ذاتی اخراجات کے تحت تعلیم حاصل کررہے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق پنجاب اور سندھ کے بیشتر میڈیکل اور ڈینٹل کالجز نے پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کی ہدایات کے مطابق افغان طلبہ کا ریکارڈ مرتب کرلیا ہے۔
کونسل نے اداروں کو افغان طلبہ کی واپسی میں معاونت کے لیے عدم اعتراض کے سرٹیفکیٹ جاری کرنے سمیت دیگر انتظامی کارروائی مکمل کرنے کی ہدایت کی ہے۔
خیبر میڈیکل یونیورسٹی نے بھی افغان طلبہ کی تفصیلات جمع کرنا شروع کردی ہیں، جبکہ میڈیکل اور ڈینٹل کالجز کو طلبہ کے تفصیلی تعلیمی ریکارڈ اور عدم اعتراض کے سرٹیفکیٹ تیار کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔












