لندن(پاک ترک نیوز )برطانیہ اور جرمنی نے تخریب کاری، سائبر حملوں اور اہم تنصیبات کو لاحق خطرات سے نمٹنے کے لیے مشترکہ شراکت داری قائم کرنے کا اعلان کردیا۔
برطانوی وزیراعظم اینڈی برنہم آج برلن پہنچیں گے جہاں وہ جرمن چانسلر فریڈرک میرتز سے ملاقات کریں گے۔ دونوں رہنما یورپ کو درپیش سیکیورٹی اور جغرافیائی سیاسی چیلنجز سمیت باہمی تعاون کے مختلف امور پر بات چیت کریں گے۔
برطانوی حکومت کے مطابق برطانیہ اور جرمنی یورپ کی دو بڑی معیشتیں اور دفاعی شعبے میں بڑے سرمایہ کار ہیں۔ دونوں ممالک نے مشترکہ خطرات سے نمٹنے کے لیے ایسے اقدامات پر اتفاق کیا ہے جن کا مقصد دشمن عناصر کی سرگرمیوں کی نشاندہی، نگرانی اور ان میں رکاوٹ ڈالنا ہے۔
مشترکہ شراکت داری کے تحت دونوں ممالک معلومات کا تبادلہ کریں گے اور سائبر حملوں، تخریب کاری اور اہم بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے والی سرگرمیوں کی روک تھام کے لیے مربوط اقدامات کریں گے۔
برطانوی حکومت کے مطابق روس سمیت مخالف ریاستوں کی جانب سے پیدا کیے جانے والے ہائبرڈ خطرات یورپ اور دیگر علاقوں کی سلامتی کے لیے چیلنج بن رہے ہیں۔ برطانیہ اور جرمنی مشترکہ طور پر ایسی سرگرمیوں کی نشاندہی اور انہیں روکنے کے لیے کام کریں گے۔
برطانوی وزیراعظم اینڈی برنہم نے کہا کہ بنیادی ڈھانچے، کاروباری اداروں اور جمہوری نظام پر حملے کوئی دور کا خطرہ نہیں بلکہ ان کے اثرات لوگوں کے گھروں اور کام کی جگہوں تک پہنچ رہے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ برطانیہ اور جرمنی مل کر ایسی سرگرمیوں کا سراغ لگانے، انہیں بے نقاب کرنے اور روکنے کے لیے کام کریں گے، کیونکہ سلامتی اور معاشی ترقی ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہیں۔
ملاقات میں یوکرین کی حمایت، مشرق وسطیٰ میں عدم استحکام اور آبنائے ہرمز سمیت عالمی تجارتی راستوں میں خلل کے اثرات پر بھی تبادلہ خیال کیا جائے گا۔
دونوں رہنما برطانیہ اور جرمنی کے درمیان علاقائی معاشی ترقی کے فورم کی بھی میزبانی کریں گے، جس میں دونوں ممالک کے کاروباری اداروں کے سربراہان شریک ہوں گے۔ فورم میں سرمایہ کاری، صنعتی شراکت داری اور معاشی ترقی کے ثمرات مختلف علاقوں تک پہنچانے کے اقدامات پر غور کیا جائے گا۔
برطانوی حکومت کے مطابق یہ اقدامات 2025 کے کینسنگٹن معاہدے کے تحت دونوں ممالک کے درمیان سائنس، ٹیکنالوجی، دفاع، سلامتی اور معاشی ترقی کے شعبوں میں تعاون کو مزید آگے بڑھائیں گے۔
برطانیہ نے قومی سلامتی کے لیے خطرہ بننے والی ریاستی سرپرستی رکھنے والی تنظیموں اور ان کے معاون گروہوں کے خلاف کارروائی کے لیے بھی نئے اختیارات دینے کی قانون سازی تیز کردی ہے۔
اس کے علاوہ دشمن ریاستوں کی جانب سے معلوماتی حملوں، گمراہ کن معلومات اور مصنوعی طور پر تیار کردہ جعلی مواد سے نمٹنے کے لیے قومی مرکز برائے معلوماتی دفاع قائم کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
برطانوی حکومت کے مطابق جرمنی برطانیہ کا دوسرا بڑا تجارتی شراکت دار ہے اور دونوں ممالک کے درمیان تجارتی و معاشی تعلقات برطانوی معیشت میں تقریباً 155 ارب پاؤنڈ کا حصہ ڈالتے ہیں۔












