اوسلو ( پاک ترک نیوز) ناروے کے پہاڑی برفانی علاقوں سے آثار قدیمہ کے ماہرین نے 48 قدیم تیر دریافت کرلیے، جن میں ایک تیر کی عمر 5 ہزار سے 6 ہزار سال کے درمیان بتائی گئی ہے۔یہ نایاب تیر ناروے کے یوتون ہائمن پہاڑی سلسلے میں موجود برفانی علاقے سے ملا۔ تیر میں پتھر کی تختی نما نوک، لکڑی کا ڈنڈا اور قدیم دور میں باندھنے کے لیے استعمال ہونے والے ریشوں کے آثار بھی موجود ہیں۔ماہرین کے مطابق برف پگھلنے کے باعث اب ایسے آثار سامنے آرہے ہیں جو پہلے ہزاروں سال تک برف کی تہوں میں محفوظ تھے۔ حالیہ دریافتوں میں پتھر کے زمانے اور کانسی کے زمانے سے تعلق رکھنے والی اشیا کی تعداد میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: سوشل میڈیا سے کمائی کرنے والوں کے لیے بڑا جھٹکا
ناروے کے برفانی آثار قدیمہ کے پروگرام کے مطابق 2006 میں تحقیق شروع ہونے کے وقت زیادہ تر دریافت ہونے والی اشیا کی عمر دو ہزار سال سے کم تھی اور وائکنگ دور کے آثار زیادہ عام تھے، تاہم اب اس سے کہیں قدیم اشیا مسلسل برآمد ہورہی ہیں۔گزشتہ دو دہائیوں کے دوران ماہرین نے 73 آثار قدیمہ کے مقامات ریکارڈ کیے اور 5 ہزار سے زائد نوادرات دریافت کیے ہیں، جن میں تیر، کمانیں، شکار کا سامان، کپڑے، جوتے اور روزمرہ زندگی میں استعمال ہونے والی اشیا شامل ہیں۔ماہرین کا کہنا ہے کہ برفانی ماحول نے لکڑی، کھال، ریشوں اور کپڑے جیسی نازک اشیا کو ہزاروں سال تک محفوظ رکھا، جس سے قدیم انسانوں کے رہن سہن، سفر اور شکار کے طریقوں کے بارے میں اہم معلومات حاصل ہورہی ہیں۔












