کراچی(پاک ترک نیوز ) میر رضا علی کیس میں جے آئی ٹی کی درخواست نمٹانے کے سندھ ہائیکورٹ کے فیصلے کے خلاف اپیل دائر کرنے کا فیصلہ کرلیا گیا۔
میر رضا کے والدین کے وکیل جبران ناصر نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ عدالت سے میر رضا کے قتل کی تفتیش خود کرنے کی استدعا نہیں کی گئی تھی، بلکہ صرف تفتیشی کوتاہیوں اور ناکامیوں کا عدالتی جائزہ لینے کی درخواست کی گئی تھی۔
جبران ناصر کے مطابق دستاویزی شواہد سے ثابت تفتیشی ناکامیوں کو متنازع حقائق قرار نہیں دیا جاسکتا، جبکہ تفتیش کی نگرانی اور تفتیشی عمل کے متاثر ہونے کا عدالتی جائزہ دو الگ معاملات ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اگر تفتیش متاثر، ناقص یا مشکوک ہوچکی ہو تو آئینی عدالت اس کا جائزہ لے سکتی ہے۔
وکیل کے مطابق سلطان علی کیس کے حقائق مختلف ہونے کا مؤقف اس قانونی اصول کا جواب نہیں کہ تفتیشی ناکامیوں کا جائزہ لیا جائے۔
جبران ناصر نے کہا کہ آج ضائع یا متاثر ہونے والے شواہد کل دوبارہ حاصل نہیں کیے جاسکیں گے، اس لیے آئینی داد رسی کا محض دستیاب ہونا کافی نہیں بلکہ اس کا مؤثر اور بروقت ہونا بھی ضروری ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اسی مؤقف کے تحت سندھ ہائیکورٹ کے فیصلے کے خلاف اپیل دائر کی جائے گی۔









