واشنگٹن (پاک ترک نیوز )جنگی حالات میں اگر دشمن جی پی ایس سگنلز جام کردے تو طیارے، ڈرونز، خودکار گاڑیاں اور دیگر جدید نظام راستہ کیسے تلاش کریں گے؟ امریکی بحریہ کی معاونت سے ہونے والے ایک نئے تجربے نے اس مسئلے کا ممکنہ حل پیش کردیا ہے۔
امریکی کمپنی ٹرسٹ پوائنٹ نے ثابت کیا ہے کہ اس کے سی بینڈ نیویگیشن سگنلز شدید جی پی ایس اور جی این ایس ایس مداخلت کے باوجود کام جاری رکھ سکتے ہیں۔
یہ تجربہ امریکی بحریہ کے تحقیقی معاہدے کے تحت کیا گیا، جس میں ٹرسٹ پوائنٹ کے سی بینڈ سگنلز کو نوویٹل کے جدید رسیور کے ساتھ آزمایا گیا۔
تجربے کے دوران جی این ایس ایس سگنلز میں مداخلت پیدا کی گئی، لیکن رسیور نے ٹرسٹ پوائنٹ کے سی بینڈ سگنلز کو نہ صرف حاصل کیا بلکہ انہیں ٹریک کرتے ہوئے درست پوزیشننگ کی معلومات بھی فراہم کیں۔
یہ کامیابی اس لیے اہم ہے کیونکہ جدید فوجی اور خودکار نظام اپنی پوزیشن معلوم کرنے کے لیے جی پی ایس پر بہت زیادہ انحصار کرتے ہیں۔
اگر دشمن الیکٹرانک وارفیئر کے ذریعے جی پی ایس سگنلز کو جام یا کمزور کردے تو طیاروں، ڈرونز اور خودکار پلیٹ فارمز کے لیے درست نیویگیشن ایک بڑا مسئلہ بن سکتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں : مشرق وسطیٰ ،یوکرین کی جنگیں ،جی پی ایس نیوی گیشن سسٹم کے سگنلز متاثر
ٹرسٹ پوائنٹ کا طریقہ کار موجودہ جی پی ایس کو ختم کرنے کے بجائے ایک متبادل ذریعہ فراہم کرنے پر مبنی ہے۔
زیادہ تر سیٹلائٹ نیویگیشن نظام ایل بینڈ فریکوئنسیز استعمال کرتے ہیں، جبکہ ٹرسٹ پوائنٹ سی بینڈ اسپیکٹرم میں سگنلز کے ذریعے پوزیشننگ اور ٹائمنگ کی سہولت فراہم کرنے پر کام کر رہا ہے۔
کمپنی کا مقصد یہ نہیں کہ موجودہ جی این ایس ایس نظام کو مکمل طور پر تبدیل کردیا جائے، بلکہ ایسا نیویگیشن نظام تیار کیا جائے جو جی پی ایس متاثر ہونے کی صورت میں اضافی سہارا فراہم کرسکے۔
تجربے میں استعمال ہونے والا نوویٹل رسیور پہلے ہی ایرو اسپیس، دفاعی اور صنعتی شعبوں میں استعمال ہوتا ہے۔
اس لیے نئی ٹیکنالوجی کو مکمل طور پر نئے ہارڈویئر کی ضرورت کے بغیر موجودہ رسیور پلیٹ فارم پر آزمانا عملی طور پر اہم پیش رفت سمجھی جا رہی ہے۔
امریکی بحریہ کے لیے اس ٹیکنالوجی کی اہمیت اس لیے بھی بڑھ جاتی ہے کیونکہ دنیا بھر میں الیکٹرانک جنگ کی صلاحیت رکھنے والے ممالک ایسے نظام تیار کر رہے ہیں جو سیٹلائٹ نیویگیشن کو جام یا متاثر کرسکتے ہیں۔
ٹرسٹ پوائنٹ پہلے بھی سی بینڈ ٹیکنالوجی کے مختلف تجربات کر چکی ہے۔دو ہزار پچیس میں کمپنی نے ہیکساغون کے ساتھ مل کر سی بینڈ جی این ایس ایس سگنل کی براہِ راست ترسیل اور حقیقی وقت میں وصولی کا مظاہرہ کیا تھا۔
کمپنی زمین سے خلا تک پوزیشننگ، نیویگیشن اور ٹائمنگ یعنی پی این ٹی ٹیکنالوجی کا تجربہ بھی کر چکی ہے، جبکہ اس کے ٹیکنالوجی پروگرام میں تین کمرشل سیٹلائٹس بھی استعمال ہو چکے ہیں۔
تاہم ماہرین کے مطابق ایک کامیاب تجربے سے ٹیکنالوجی فوری طور پر جی پی ایس کا متبادل نہیں بن جاتی۔ٹرسٹ پوائنٹ کے سامنے اب سب سے بڑا چیلنج یہ ہے کہ تجرباتی کامیابی کو قابلِ استعمال ہارڈویئر اور تجارتی سروس میں تبدیل کیا جائے۔
لیکن اگر سی بینڈ سگنلز واقعی ایسے ماحول میں بھی درست نیویگیشن فراہم کرنے میں کامیاب رہتے ہیں جہاں جی پی ایس شدید مداخلت کا شکار ہو، تو فوجی طیاروں، ڈرونز، خودکار نظام اور دیگر اہم پلیٹ فارمز کے لیے یہ ایک انتہائی اہم اضافی نیویگیشن ذریعہ بن سکتا ہے۔
جی پی ایس کو جام کرنے کی صلاحیت رکھنے والی الیکٹرانک جنگ کے دور میں جنگ صرف میزائلوں اور طیاروں کی نہیں رہی۔ درست سمت اور مقام کا تعین بھی میدانِ جنگ میں فیصلہ کن حیثیت اختیار کر چکا ہے، اور سی بینڈ ٹیکنالوجی اس مقابلے میں امریکا کو ایک نیا متبادل فراہم کر سکتی ہے۔






