واشنگٹن (پاک ترک نیوز )رفتار کی دنیا میں ایک اور بڑا سنگِ میل۔۔۔ ہائیڈروجن سے چلنے والی گاڑی نے بجلی اور روایتی ایندھن سے چلنے والی گاڑیوں کو پیچھے چھوڑتے ہوئے نیا عالمی لینڈ اسپیڈ ریکارڈ قائم کردیا۔
امریکی ریاست یوٹاہ کے بون ویل سالٹ فلیٹس۔۔۔ جہاں رفتار کے عالمی ریکارڈ بنتے ہیں، وہیں برطانوی کمپنی جے سی بی کی ہائیڈرو میکس نے ہائیڈروجن پاور سے نئی تاریخ رقم کردی۔
گاڑی نے دو ہائیڈروجن کمبسشن انجنوں کی مدد سے دونوں سمتوں میں اوسطاً 406.320 میل فی گھنٹہ، یعنی تقریباً 654 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار حاصل کی۔
ہائیڈرو میکس میں دو خصوصی ہائیڈروجن انجن نصب ہیں۔۔۔ ہر انجن 800 ہارس پاور پیدا کرتا ہے، جبکہ مجموعی طاقت 1600 ہارس پاور تک پہنچتی ہے۔
ریکارڈ رن میں گاڑی نے پہلی سمت میں 400.623 میل فی گھنٹہ اور دوسری سمت میں 412.135 میل فی گھنٹہ کی رفتار حاصل کی۔
اس تاریخی ریکارڈ کے لیے ڈرائیونگ کی ذمہ داری رائل ایئر فورس کے ونگ کمانڈر اینڈی گرین نے سنبھالی۔۔۔ جو 1997 میں تھرسٹ ایس ایس سی کے ذریعے آواز کی رفتار توڑنے والے ڈرائیور بھی رہ چکے ہیں۔
اینڈی گرین نے 2006 میں جے سی بی ڈیزل میکس کے ذریعے ڈیزل گاڑی کا لینڈ اسپیڈ ریکارڈ بھی قائم کیا تھا۔
ہائیڈرو میکس کا نیا ریکارڈ 2004 میں بی ایم ڈبلیو ایچ ٹو آر کے قائم کردہ 185.5 میل فی گھنٹہ کے ہائیڈروجن کمبسشن ریکارڈ سے دو گنا سے بھی زیادہ ہے۔
یہ گاڑی 2009 کے ہائیڈروجن فیول سیل اور 2016 کے الیکٹرک گاڑیوں کے لینڈ اسپیڈ ریکارڈ سے بھی تیز رفتار ثابت ہوئی۔
جے سی بی نے ہائیڈروجن کمبسشن انجن کی تیاری پر 2020 میں کام شروع کیا تھا۔ کمپنی کے مطابق فیول سیل ٹیکنالوجی کے مقابلے میں ہائیڈروجن کو براہِ راست انجن میں جلا کر طاقت حاصل کرنے کا طریقہ بھاری صنعتی اور زرعی مشینری کے لیے زیادہ موزوں ثابت ہوسکتا ہے۔
ہائیڈرو میکس کے انجنوں میں طاقت بڑھانے کے لیے بڑے پیمانے پر تبدیلیاں کی گئیں۔ جن میں ہائی پریشر ڈائریکٹ فیول انجیکشن، ڈبل اوور ہیڈ کیم شافٹس، بہتر کولنگ سسٹم اور وزن میں کمی شامل ہے۔
ہائیڈرو میکس نے ہائیڈروجن ٹیکنالوجی کی رفتار اور صلاحیت کا نیا مظاہرہ کردیا۔ تاہم پہیوں سے چلنے والی گاڑیوں کا مجموعی لینڈ اسپیڈ ریکارڈ اب بھی ’’چیلنجر ٹو‘‘ کے پاس ہے، جس نے 2018 میں 449 میل فی گھنٹہ، یعنی تقریباً 722 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار حاصل کی تھی۔






