طورخم(پاک ترک نیوز )پاکستانی حکام نے پاک افغان طورخم بارڈر کی طویل بندش کے باعث پھنسے 70 پاکستانی طلباء کو بارڈر کراس کرنے کی اجازت دے کر اپنے گھروں کو روانہ کر دیا گیا۔
مزکورہ طلبہ گزشتہ کئی ماہ سے پاکستان و افغانستان کے درمیان کشیدگی کے باعث طورخم بارڈر بندش کی وجہ سے افغانستان میں پھنسے ہوئے تھے، جبکہ گزشتہ تین روز سے طورخم بارڈر پر بھی موجود تھے اور پاکستان واپسی کے منتظر تھے۔
متعلقہ حکام کی جانب سے ضروری انتظامات اور باہمی رابطوں کے بعد طلبہ کو بارڈر عبور کرنے کی اجازت دی گئی۔ اس دوران طلبہ کے لیے کھانے پینے سمیت دیگر بنیادی سہولیات بھی فراہم کی گئیں، جس کے بعد انہیں بحفاظت اپنے گھروں کی جانب روانہ کر دیا گیا۔
طلبہ نے بارڈر کراسنگ کی سہولت فراہم کرنے پر متعلقہ حکام کا شکریہ ادا کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ مستقبل میں بھی ایسے انسانی نوعیت کے معاملات کو ترجیحی بنیادوں پر حل کیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں: اسلام آباد آنے والی غیرملکی پرواز میں فنی خرابی، مسقط سے واپس دبئی موڑ دیا گیا
واضح رہے کہ طورخم بارڈر کی بندش کے باعث دونوں جانب شہریوں، مریضوں، طلبہ اور تاجروں کو مختلف مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، تاہم حکام کی کوششوں سے انسانی بنیادوں پر مختلف معاملات مرحلہ وار حل کیے جا رہے ہیں۔












