لاہور( پاک ترک نیوز) آپ نے اکثر دیکھا ہوگا کہ کچھ لوگ چھپکلی کو نظر انداز کر دیتے ہیں، جبکہ بعض افراد اسے دیکھتے ہی خوفزدہ ہو جاتے ہیں، چیخنے لگتے ہیں یا فوراً وہاں سے دور بھاگ جاتے ہیں۔
بظاہر یہ ایک چھوٹا سا جانور ہے، لیکن کچھ لوگوں کے لیے اس کا سامنا کرنا انتہائی مشکل ہو سکتا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ صرف چھپکلی کا خوف نہیں بلکہ اس سے جڑی ذہنی کیفیت اور دماغ کا ردعمل ہوتا ہے۔
چھپکلی کو دیکھتے ہی بعض افراد کے دل کی دھڑکن تیز ہو جاتی ہے، ہاتھ پاؤں ٹھنڈے پڑ جاتے ہیں، پسینہ آنے لگتا ہے اور شدید گھبراہٹ محسوس ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ گھر میں ہر وقت دیواروں اور کونوں پر نظر رکھتے ہیں تاکہ کہیں اچانک چھپکلی سامنے نہ آ جائے۔
ماہرین نفسیات کا کہنا ہے کہ اس خوف کی ایک وجہ بچپن کے تجربات بھی ہو سکتے ہیں۔ اگر بچہ اپنے گھر والوں کو چھپکلی دیکھ کر خوفزدہ ہوتے دیکھے تو وہ بھی لاشعوری طور پر یہی ردعمل سیکھ لیتا ہے۔
تحقیق کے مطابق چھپکلی کی اچانک حرکت، دیواروں پر تیزی سے دوڑنے کا انداز، اور اس کی مخصوص بناوٹ بعض افراد کے دماغ میں خطرے کا احساس پیدا کر دیتی ہے، حالانکہ حقیقت میں زیادہ تر گھریلو چھپکلیاں انسان کے لیے نقصان دہ نہیں ہوتیں۔
ماہرین اس کیفیت کو "ہرپیٹوفوبیا” یعنی رینگنے والے جانوروں کے غیر معمولی خوف کی ایک شکل قرار دیتے ہیں۔ اگر یہ خوف معمول کی زندگی کو متاثر کرنے لگے تو اسے صرف گھبراہٹ نہیں بلکہ ایک نفسیاتی مسئلہ سمجھا جاتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: کھانے کے بعد ہلکی واک صحت کیلئے کتنی ضروری؟
خوش آئند بات یہ ہے کہ ماہرین کے مطابق مناسب رہنمائی، رویے کی تھراپی اور بتدریج خوف کا سامنا کرنے کی مشق کے ذریعے اس فوبیا پر قابو پایا جا سکتا ہے۔
تو اگر آپ بھی چھپکلی دیکھتے ہی خوفزدہ ہو جاتے ہیں، تو یاد رکھیں کہ آپ اکیلے نہیں، بلکہ دنیا بھر میں لاکھوں افراد اس کیفیت کا سامنا کرتے ہیں۔






