لاہور( پاک ترک نیوز) فضائی سفر کی دنیا ایک نئے ریکارڈ کی جانب بڑھ رہی ہے، جہاں ایک خصوصی ایئر بس اے 350 جلد تقریباً 24 گھنٹے کی مسلسل آزمائشی پرواز بھرے گی ، یہ پرواز فرانس سے شروع ہوگی اور اس کا مقصد دنیا کی طویل ترین کمرشل پروازوں کے لیے طیارے کی صلاحیت ثابت کرنا ہے۔
یہ خصوصی طیارہ آسٹریلوی ایئرلائن قنطاس کے پراجیکٹ سن رائز کا حصہ ہے، جس کے تحت 2027 کے دوسرے نصف میں سڈنی اور میلبرن سے براہِ راست لندن اور نیویارک سٹی تک تک نان اسٹاپ پروازیں شروع کی جائیں گی۔
ایئر بس میں اضافی 20 ہزار لیٹر ایندھن رکھنے کی گنجائش دی گئی ہے، جس کی بدولت یہ طیارہ تقریباً 18 ہزار کلومیٹر کا فاصلہ طے کر سکے گا۔ ہر پرواز میں 238 مسافر سوار ہوں گے اور سفر کا دورانیہ 22 گھنٹے تک ہو سکتا ہے۔
آزمائشی پرواز کے دوران طیارے میں مسافر نہیں ہوں گے بلکہ پائلٹس، انجینئرز اور تکنیکی ماہرین موجود ہوں گے۔ کیبن میں تقریباً پانچ ٹن خصوصی مانیٹرنگ آلات نصب کیے گئے ہیں جبکہ ایک ہزار سے زائد سینسرز طیارے کے مختلف حصوں کی کارکردگی کا جائزہ لیں گے۔
یہ سینسر ایندھن کے استعمال، دباؤ، درجہ حرارت، وینٹیلیشن اور طیارے کے ڈھانچے پر پڑنے والے اثرات سمیت متعدد پہلوؤں کی مسلسل نگرانی کریں گے۔ نشستوں میں خصوصی حرارت پیدا کرنے والے نظام بھی نصب کیے گئے ہیں تاکہ انسانی جسم کے درجہ حرارت کی نقل کی جا سکے اور ایئر کنڈیشننگ سسٹم کی کارکردگی جانچی جا سکے۔
پروجیکٹ سن رائز کی کامیابی کے لیے قنطاس جدید مصنوعی ذہانت پر مبنی نظام استعمال کرے گی، جو لاکھوں ڈیٹا پوائنٹس کا تجزیہ کرکے طیارے کے لیے سب سے موزوں راستہ تجویز کرتا ہے۔
یہ نظام موسم کی خرابی سے بچنے، موافق ہواؤں سے فائدہ اٹھانے اور ایندھن کی بچت میں مدد دیتا ہے۔ یہ ٹیکنالوجی ایئرلائن کے سالانہ ایندھن کے اخراجات میں تقریباً 30 ملین ڈالر کی بچت کر رہی ہے۔
اگرچہ پروجیکٹ سن رائز دنیا کی طویل ترین نان اسٹاپ کمرشل پرواز کا نیا ریکارڈ قائم کرے گا، تاہم یہ قنطاس کی تاریخ کی سب سے طویل پرواز نہیں ہوگی۔
دوسری جنگِ عظیم کے دوران 1943 میں قنطاس نے پرتھ اور کولمبو کے درمیان خفیہ فضائی سروس چلائی تھی۔ اس وقت استعمال ہونے والی فلائنگ بوٹس ریڈیو خاموشی کے ساتھ صرف ستاروں کی مدد سے راستہ تلاش کرتی تھیں اور بعض اوقات 33 گھنٹے تک مسلسل پرواز کرتی تھیں۔
ان پروازوں میں صرف تین مسافر اور 70 کلوگرام ڈاک لے جائی جاتی تھی، جبکہ مسافروں کو دوران سفر دو مرتبہ سورج طلوع ہوتے دیکھنے کا موقع ملتا تھا۔ اسی تاریخی روایت کی یاد میں موجودہ منصوبے کو "پروجیکٹ سن رائز” کا نام دیا گیا ہے۔
ماہرین کے مطابق اگر یہ آزمائشی پرواز کامیاب رہتی ہے تو 2027 سے دنیا کے دو بڑے مالیاتی اور تجارتی مراکز لندن اور نیویارک آسٹریلیا سے براہِ راست جڑ جائیں گے، جس سے عالمی فضائی سفر میں ایک نئی تاریخ رقم ہوگی اور طویل فاصلے کی پروازوں کا تصور یکسر بدل جائے گا۔







