لاہور( پاک ترک نیوز) دنیا کے سب سے بڑے تیرتے ہوئے شہر فریڈم شپ کا منصوبہ ایک بار پھر توجہ کا مرکز بن گیا ۔ منصوبے کے حامیوں کا دعویٰ ہے کہ یہ منفرد سمندری شہر مستقبل میں 80 ہزار افراد کو رہائش، تعلیم، صحت، کاروبار اور تفریح کی تمام سہولیات ایک ہی جگہ فراہم کر سکے گا۔
فریڈم شپ کو روایتی کروز شپ کے بجائے سمندر میں مستقل طور پر متحرک شہر قرار دیا جا رہا ہے۔ منصوبے کے مطابق یہ دیوہیکل جہاز تقریباً ایک میل لمبا، 800 فٹ چوڑا اور 30 منزلہ ہوگا، جبکہ اس کا وزن 20 لاکھ گراس ٹن سے زیادہ ہوگا۔
منصوبے کے مطابق اس تیرتے ہوئے شہر میں رہائشی اپارٹمنٹس، دفاتر، اسکول، کالج، اسپتال، بینک، شاپنگ سینٹرز، عجائب گھر، کنسرٹ ہال، واٹر پارک، ایکویریم، نائٹ کلب اور 15 ہزار نشستوں پر مشتمل اسپورٹس اسٹیڈیم بھی موجود ہوگا۔ اس کے علاوہ جہاز پر آٹھ ہیلی پیڈز بھی تعمیر کیے جائیں گے تاکہ آمدورفت کو آسان بنایا جا سکے۔
منصوبہ سازوں کا کہنا ہے کہ یہاں رہنے والے افراد صرف سیاحت ہی نہیں کریں گے بلکہ تعلیم حاصل کریں گے، ملازمتیں کریں گے، کاروبار چلائیں گے اور اپنی روزمرہ زندگی اسی تیرتے ہوئے شہر میں گزار سکیں گے۔
فریڈم شپ کی رفتار تقریباً 8 میل فی گھنٹہ سے زائد ہوگی اور یہ ہر دو سال میں دنیا کا ایک مکمل چکر لگائے گا۔ چونکہ اس کا حجم غیرمعمولی ہوگا، اس لیے یہ عام بحری جہازوں کی طرح ہر بندرگاہ پر نہیں رکے گا بلکہ مسافروں اور سامان کی نقل و حمل فیری بوٹس، چھوٹے جہازوں اور ہیلی کاپٹروں کے ذریعے کی جائے گی۔
منصوبے کے حامیوں کے مطابق فریڈم شپ میں جدید ہائبرڈ پروپلشن سسٹم، توانائی کی بچت، پانی کی ری سائیکلنگ اور فضلے کے جدید انتظامی نظام شامل ہوں گے تاکہ ماحولیاتی اثرات کو کم کیا جا سکے
ماہرین کا کہنا ہے کہ اتنے بڑے تیرتے ہوئے شہر کو مسلسل بجلی، پانی، خوراک، کولنگ سسٹم اور فضلہ تلف کرنے کے لیے بھاری وسائل درکار ہوں گے، جس سے ماحولیاتی چیلنجز پیدا ہو سکتے ہیں۔
فریڈم شپ کا تصور پہلی بار 1990 کی دہائی میں امریکی انجینئر نارمن نکسن نے پیش کیا تھا، تاہم مالی اور تکنیکی مسائل کے باعث منصوبہ عملی شکل اختیار نہ کر سکا۔ اب فریڈم کروز لائن انٹرنیشنل کے چیف ایگزیکٹو راجر ایم گوچ اس منصوبے کو دوبارہ آگے بڑھا رہے ہیں۔
منصوبے کی ابتدائی لاگت تقریباً 16 ارب ڈالر بتائی جا رہی ہے۔ اگر مطلوبہ سرمایہ حاصل ہو گیا تو تعمیراتی کام انڈونیشیا میں شروع کیا جائے گا اور اسے مکمل ہونے میں تین سے چار سال لگ سکتے ہیں۔
فریڈم شپ کو مستقبل کے شہروں کا تصور قرار دیا جا رہا ہے، تاہم اس کے ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ منصوبہ فی الحال ایک پرکشش خیال اور بلند و بالا دعوؤں سے آگے نہیں بڑھ سکا۔







