امریکہ نے جزیرہ قشم میں کارروائی کرتے ہوئے ریڈار تنصیبات کو نشانہ بنای
تہران ( پاک ترک نیوز) مشرقِ وسطیٰ میں حالات پھر کشیدہ ہو گئے،۔ امریکا نے صبح سویرے ایران کے حساس علاقوں گوروک اور جزیرہ قشم میں کارروائی کرتے ہوئے ریڈار تنصیبات کو نشانہ بنایا، جبکہ ایران نے امریکی اڈوں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔
تفصیلات کےمطابق امریکہ اور ایران کے ایک دوسرے پر ایک بار پھر حملے ،مشرق وسطی میں صورتحال دوبارہ کشیدہ ہوگئی۔
امریکی سینٹ کام کے مطابق امریکی فوج نے اپنے دفاع میں کارروائی کرتے ہوئے ایران کے تمام ڈرونز کو مار گرایا۔ سینٹ کام کا کہنا ہے کہ چار ایرانی ڈرونز کی جانب سے خطرے کے جواب میں ایرانی ریڈار تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔
ایرانی خبر ایجنسی کے مطابق امریکا ،ایران کے ایک دوسرے پر ایک بار پھر حملے،آبنائے ہرمز کے قریب موجود امریکی بحری جہازوں کو وارننگ فائر کا سامنا کرنا پڑا، جبکہ پاسدارانِ انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی حملے کے جواب میں خطے میں موجود امریکی اڈوں کو نشانہ بنایا گیا۔
کشیدگی صرف ایران اور امریکا تک محدود نہیں رہی۔ کویت نے اعلان کیا ہے کہ اس کے فضائی دفاعی نظام نے متعدد میزائلوں اور ڈرون حملوں کو ناکام بنا دیا، جبکہ بحرین میں ممکنہ حملے کے خدشے کے پیش نظر ایئر ریڈ سائرن فعال کر دیے گئے۔
ادھر سفارتی محاذ پر بھی صورتحال پیچیدہ ہوتی جا رہی ہے۔ ایران نے جنگ بندی ڈیل پر اتفاق نہ کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ وہ دباؤ قبول نہیں کرے گا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ایران کے معاملے پر امریکا کو زبردست کامیابیاں حاصل ہو رہی ہیں۔ ان کے بقول ایران ایک طاقتور اور غیور قوم ہے، تاہم اگر معاملات حل نہ ہوئے تو تہران غیر معمولی اقدامات پر مجبور ہو سکتا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ایران کے معاملے پر امریکا کو زبردست کامیابیاں حاصل ہو رہی ہیں۔ ان کے بقول ایران ایک طاقتور اور غیور قوم ہے، تاہم اگر معاملات حل نہ ہوئے تو تہران غیر معمولی اقدامات پر مجبور ہو سکتا ہے۔
صدر ٹرمپ نے امید ظاہر کی ہے کہ آبنائے ہرمز کا بحران جلد حل ہو جائے گا اور صورتحال معمول پر آنے کے بعد عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بھی نیچے آ جائیں گی۔
دفاعی ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ اگر خلیج میں کشیدگی مزید بڑھی تو نہ صرف عالمی توانائی کی سپلائی متاثر ہو سکتی ہے بلکہ پورا مشرقِ وسطیٰ ایک وسیع جنگ کی لپیٹ میں بھی آ سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ٹرمپ کی ایک بار پھر ایران کو وارننگ












