لاہور( پاک ترک نیوز) دل کی بیماری کو صرف ادویات اور ورزش تک محدود سمجھنے والوں کے لیے نئی سائنسی تحقیق نے چونکا دینے والے انکشافات دیئے ۔ تازہ ریسرچ کے مطابق ذہنی مشقیں، مثبت سوچ اور مائنڈفلنیس نہ صرف ذہن بلکہ دل کی صحت پر بھی گہرا اثر ڈالتی ہیں۔
تحقیق سے ظاہر ہوتا ہے کہ منظم نفسیاتی مداخلتیں دل کی صحت پر قابلِ پیمائش اثرات ڈال سکتی ہیں۔،روزانہ چند منٹ کی ذہنی تربیت صرف مزاج بہتر بنانے تک محدود نہیں رہتی ۔صرف چند ہفتوں کی منظم ذہنی تربیت سے بلڈ پریشر میں نمایاں کمی اور جسم میں خطرناک سوزش کم ہو سکتی ہے۔ ماہرین کے مطابق مائنڈفلنیس، شکر گزاری کی ڈائری اور پرامیدی کی مشقیں دل کے مریضوں کے لیے “خاموش علاج” ثابت ہو رہی ہیں۔
زیادہ تر مطالعات میں 50 سے 200 بالغ افراد شامل تھے جن میں دل کی بیماری کا خطرہ زیادہ تھا، ۔ شرکاء کی عمر زیادہ تر 50 سے 60 سال کے درمیان تھی۔ جن مطالعات میں جنس کی معلومات موجود تھیں، ان میں خواتین کی شرح 35% سے 55% کے درمیان تھی۔
ہائی بلڈ پریشر اور دل کے دورے کے بعد کے مریضوں میں، آٹھ ہفتوں کے مائنڈفلنیس پروگرامز نے سسٹولک بلڈ پریشر اور جسم میں سوزش کے اشاریوں جیسے ہائی سینسٹیو سی-ری ایکٹو پروٹین اور فائبرینوجن کو کم کیا۔ حیران کن طور پر کچھ کیسز میں سسٹولک بلڈ پریشر میں 7 پوائنٹس سے زائد کمی ریکارڈ کی گئی، جو عام طور پر دواؤں کے ساتھ حاصل کی جاتی ہے۔
یہ بہتری صرف مثبت سوچ کی وجہ سے نہیں ہوتی۔ بہت سے مؤثر پروگراموں نے لوگوں کو زیادہ جسمانی سرگرمی، بہتر غذا اور ادویات کے باقاعدہ استعمال میں بھی مدد دی، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ذہنی خوشحالی دل کی صحت کو جزوی طور پر اس طرح بھی بہتر بناتی ہے کہ صحت مند عادات اپنانا آسان ہو جاتا ہے۔
یہ نتائج اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ دل کی بیماری کی روک تھام اور بہتری کے لیے ذہنی اور رویے کی صحت پر توجہ دینا بہت ضروری ہے۔ اس کے لیے باقاعدہ اسکریننگ اور کارڈیک بیہیویئرل میڈیسن کو نظامِ صحت میں شامل کرنے کی ضرورت ہے۔








