
از: سہیل شہریار
پاکستان میں اندرونی قلیل مدتی قرض کا حصہ 28فیصد سے کم ہو کر 16فیصد ہو گیا ہے۔اور طویل مدتی قرضوں کا تناسب 72فیصدسے بڑھ کر 84فیصد ہو گیا ہے۔ اس اہم تبدیلی نے اندرونی قرضوں کی پختگی کے وقت کو 2.7 سال سے بڑھا کر 3.8 سال کر دیا ہے۔
بینکدولت پاکستان کے اعداد و شماراندرونیقرضوں کے پروفائل میں قلیل سے طویل مدتی انتظام کی جانب منتقلی کو ظاہر کرتے ہیں۔جس سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ ملک کے اقتصادی مینیجرز کی سو چ میں بنیادی تبدیلی آئی ہےاور انہوںنے اب اندرونی قرض کو بہتر طور پر منظم کرنے پر توجہ مرکوز کر رکھی ہے۔اس مقصد کے لیے قرضوں کی پختگی کے ڈھانچے اور قرض لینے کی لاگت کے درمیان ایک بہترین توازن برقرار رکھنا ضروری ہے۔ چنانچہ پہلے حصے میں قرض کی مدت کو لمبا کرنا شامل ہے۔اوردوسرا حصہ قرض لینے کے اخراجات کو قابل قبول حد میں رکھنے پر توجہ مرکوز کرتا ہے۔ یہ توازن قرض کےطویل مدتی حصول کے ذریعے حاصل کیا جاتا ہے۔
طویل مدتی قرض خصوصاً اندرونی قرضوں کے ضمن میںبہتر ہوتا ہے۔ کیونکہ انکی ادائیگی کی اوسط مدت زیادہ ہوتی ہے جو قرض کی واپسی کے عمل کو آسان بنانے میں مددگار ثابت ہوتاہے۔اسی کے ساتھ ان کےرول اوور میں کمی آتی ہے۔ اور بلند شرحوں پر ری فنانسنگ کا خطرہ نمایاں طور پر کم ہو جاتا ہے۔
بیرونی قرضوں کے برعکس، جن کی شرائط نمایاں طور پر قرض دہندگان اور عالمی مالیاتی حالات سے تشکیل پاتی ہیں۔اندرونی قرض زیادہ تر خودمختار کنٹرول میں ہوتا ہے۔ جو قرض کی پائیداری کو آگے بڑھانے میں حکومت کی مالی حکمت عملی اور پالیسی کے ارادے کا واضح اظہار ہوتا ہے۔اسی لئے 2015میں ملک کےاندرونی قرقوں میں طویل مدتی قرضے کی شرح45فیصد اور قلیل مدتی قرض کا حصہ 55فیصد تھا۔ مگر دس برس بعد جب قرض کے خاتمے کی بجائے قرضوں کے بہترین انتظام کی حکمت عملی اختیار کئے جانے کے نتیجے میں مالی سال 2024-25یں اندرونی قرضوںکا تناسب 72اور28فیصد کے ساتھ نمایاں طور پر طویل مدتی قرضوں کے حق میں جا چکا تھا۔
گزشتہ پانچ برسوںکے دوران 2021 سے 2024 تک غیر پائیدار اندرونی قرضوں کے متحرک ہونے کے باوجود سود کی ادائیگی میں 150 فیصد مگر ملکی اندرونی قرضوں میں صرف 50
فیصد اضافہ ہوا۔ جبکہ پاکستان نےاندرونی قرضوں کی واجب الادا مدت کو 2.7 سال سے 3.8 سال تک بڑھا کر قرض کی پائیداری کے لیے لچک اور عزم کا مظاہرہ کیا۔
ملک کےاندرونی قرضوں میں طویل المدتی قرضوں کی جانب بڑھتے ہوئے رجحان کے باوجود پاکستان میں قلیل مدتی قرضوں کے لیے اب بھی ایک کشش موجود ہے۔ جبکہ اندرونی قرضوں کےمجموعی حجم میںمسلسل توسیع نے مالیاتی خسارے کی بنیادی نوعیت کو تبدیل کر دیا ہے- جو کبھی ساختی طور پر چلنے والا خسارہ تھا مگر اب سود پر مبنی خسارے میں تبدیل ہو گیا ہے۔اور اس کےنتیجے کے طور پر اب نئے قرضے لینے کا ایک اہم حصہ معاشی ترقی کی مالی اعانت کے بجائے قرض کی ادائیگیوں کی طرف جاتا ہے۔اگر رواں مالی سال کی بات کی جائے تو اس میں اندرونی قرضوں کا حجم 620کھرب روپے اور اس پر سود کی ادائیگی کی مد میں اٹھنے والے اخراجات کاتخمینہ62سے 73کھرب روپے لگایا گیا ہے۔












