بیجنگ ( پاک ترک نیوز) خلا میں ایک نئی دوڑ شروع ہو گئی ،جہاں ایک طرف امریکا کا خلائی غلبہ کمزور پڑ رہا ہے وہیں چین خاموشی سے بڑی چال چل رہا ہے۔چین نے اپنے خلائی اسٹیشن تیانگونگ کو دوگنا کرنے کا اعلان کر دیا۔
چین نے اپنے خلائی اسٹیشن تیانگونگ کو توسیع دینے کے منصوبوں کی تصدیق کر دی ،منصوبے کے تحت اس کا حجم ممکنہ طور پر دوگنا سے بھی زیادہ کیا جائے گا تاکہ بڑھتی ہوئی سائنسی ضروریات پوری کی جا سکیں اور بین الاقوامی تعاون کو فروغ دیا جا سکے۔
انٹرنیشنل اسپیل اسٹیسن اور تیانگونگ اس وقت زمین کے نچلے مدار میں کام کرنے والے واحد خلائی اسٹیشن ہیں۔ آئی ایس ایس، جس کی قیادت ناسا کر رہا ہے ۔اس کی تعمیر میں 15 ممالک نے حصہ لیا، خلا میں سب سے بڑا ڈھانچہ ہے اور اب تک 3,000 سے زائد سائنسی تجربات کا مرکز رہ چکا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: چین کا نیا انقلاب ،16سال تک چلنے والی بیٹری تیار
ناسا کا منصوبہ ہے کہ آئی ایس ایس کو دو ہزار اکتیس کے اوائل میں ریٹائر کر دیا جائے، جس کے لیے اسپیس ایکس کی تیار کردہ ایک خصوصی ڈی-آربٹ گاڑی استعمال کی جائے گی تاکہ اسے جنوبی بحرالکاہل کے اوپر کنٹرولڈ انداز میں زمین کی فضا میں داخل کرایا جا سکے۔
چین کا ۔۔ٹی ۔۔شکل کا تیانگونگ اسٹیشن پہلے ایک چوتھے ماڈیول سے لیس کیا جائے گا، ججس سے اس کی شکل کراس جیسی ہو جائے گی،نیا ماڈیول متعدد ڈاکنگ پورٹس پر مشتمل ہوگا، جن میں مستقبل کے دو لیبارٹری یونٹس کے لیے بھی جگہ ہوگی، جس سے چھ ماڈیولز پر مشتمل تقریباً 180 ٹن وزنی ڈھانچہ قائم کرنے کی راہ ہموار ہوگی۔ تاہم، اس توسیع کے لیے ابھی کوئی حتمی ٹائم لائن جاری نہیں کی گئی۔
تیانگونگ کو دو ہزار میں مکمل کیا گیا تھا، اس کے بعد سے خلا باز اس پر 260 سے زائد سائنسی تجربات اور 26 خلائی چہل قدمیاں کر چکے ہیں۔ دو درجن سے زائد چینی خلا باز یہاں قیام کر چکے ہیں، جبکہ پاکستان، ہانگ کانگ اور مکاؤ کے خلا بازوں کی بھی رواں سال کے اوائل میں مشنز میں شمولیت متوقع ہے۔
اس وقت تیانگونگ میں تقریباً 110 مکعب میٹر رہائشی جگہ موجود ہے، جو تقریباً تین بیڈ روم فلیٹ کے برابر ہے۔ یہ اسٹیشن طویل مشنز کے لیے تین خلا بازوں کو سہولت فراہم کرنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ، جبکہ عملے کی تبدیلی کے دوران چھ افراد تک کی گنجائش رکھتا ہے۔
منصوبہ بند نیا ماڈیول تیانھے سے بڑا ہوگا اور اس میں خلائی چہل قدمیوں کے لیے ایک نیا ایئرلاک بھی شامل ہوگا، جس سے کارگو اور انسانی مشنز کی بڑھتی ہوئی آمدورفت کو سنبھالنے میں مدد ملے گی۔ تیانگونگ کی متوقع عمر 15 سال ہے۔ اپنے ابتدائی پانچ سالوں میں چینی خلا بازوں نے سب سے طویل خلائی چہل قدمی کا ریکارڈ بھی قائم کیا، جو 9 گھنٹے اور 6 منٹ پر مشتمل تھی، اور اس نے ناسا کے 22 سال پرانے ریکارڈ 8 گھنٹے 56 منٹ کو پیچھے چھوڑ دیا۔












