اسلام آباد ( پاک ترک نیوز) عوام کو مہنگائی کا ایک اور جھٹکا؟ کال اور انٹرنیٹ پیکجز مزید مہنگے ہونے کا امکان ہے ،ملک میں بڑھتی ہوئی مہنگائی کے اثرات اب ٹیلی کام سیکٹر تک بھی پہنچ گئے ، ۔ ٹیلی کام کمپنیوں نے اس حوالے سے پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی کودرکار ڈیٹا جمع کرا دیا ۔
بڑھتی ہوئی ایندھن کی قیمتوں کے باعث آپریشنل اخراجات میں اضافے کے پیش نظر پی ٹی اے نے کمپنیوں سے پیکجز پر نظرثانی کے لیے معلومات طلب کی تھیں، جس کے جواب میں کمپنیوں نے اپنی تجاویز بھی باضابطہ طور پر پیش کر دیں ۔ یہ تجاویز ٹیلی کام نمائندوں اور پی ٹی اے حکام کے درمیان ہونے والے اجلاسوں کے بعد جمع کرائی گئیں، جن میں بڑھتے ہوئے اخراجات پر تفصیلی بات چیت کی گئی۔
ٹیلی کام آپریٹرز کا کہنا ہے کہ ایندھن کی قیمتوں میں اضافے نے ان کے آپریشنل اخراجات میں نمایاں اضافہ کر دیا ہے ملک بھر میں نیٹ ورک چلانے اور برقرار رکھنے کے لیے بھاری توانائی درکار ہوتی ہے۔ کمپنیوں کا مؤقف ہے کہ اگر ٹیرف میں مناسب ردوبدل نہ کیا گیا تو سروس کے معیار کو برقرار رکھنا، انفراسٹرکچر کی دیکھ بھال اور نیٹ ورک کی توسیع مشکل ہو سکتی ہے۔
ٹیلی کام سیکٹر، جو مسلسل توانائی کی فراہمی پر انحصار کرتا ہے، عالمی منڈی میں عدم استحکام کے باعث ایندھن کی قیمتوں میں اضافے سے شدید متاثر ہوا ہے۔ کمپنیوں کے مطابق ڈیزل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں نے پاکستان میں ٹیلی کام سائٹس پر استعمال ہونے والے بیک اپ پاور سسٹمز کے اخراجات میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔
ان حالات کے پیش نظر، کمپنیوں نے پی ٹی اے سے درخواست کی ہے کہ انہیں معمول کے ریویو سائیکل سے پہلے ہی ٹیرف میں تبدیلی کی اجازت دی جائے۔ عام طور پر قوانین کے تحت ٹیرف میں ردوبدل ایک مقررہ مدت کے بعد کیا جاتا ہے، تاہم کمپنیوں نے غیر معمولی اخراجاتی دباؤ کا حوالہ دیتے ہوئے جلد منظوری کی استدعا کی ہے۔
پی ٹی اے اس وقت جمع کرائے گئے ڈیٹا اور تجاویز کا جائزہ لے رہی ہے، اور توقع ہے کہ لاگت اور صارفین کے مفادات کو مدنظر رکھتے ہوئے آئندہ چند دنوں میں ٹیرف میں ممکنہ تبدیلی کے حوالے سے فیصلہ کیا جائے گا۔






