
از : سہیل شہریار
عالمی حکومتی قرض کا مجموعی حجم سال 2000 میں نئی صدی کے آغاز پر ایک ہزار 970کھرب ڈالرتھا جو صرف 25برسوں میںگذشتہ سال 2025 کے اختتام پر خوفناک اضافے کے ساتھ11ہزار100کھرب ڈالر پر پہنچ گیا ہے ہوگیا۔
بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے عالمی اقتصادی جائزہ رپورٹس کے اعداد و شمارسے پتہ چلتا ہےکہ 2000 سے 2025 تک امریکہ، یورپی یونین، جاپان، چین، باقی ترقی یافتہ معیشتوں اور ابھرتی ہوئی مارکیٹ اور ترقی پذیر معیشتوںنے برق رفتاری سےحکومتی قرض حاصل کئے تاکہ اپنے ملکوں میں ترقی کے عمل کو جاری رکھا جاسکے۔اس دوران2008 کے مالیاتی بحران اور 2020 کی وبائی بیماری کے بعد قرضوں کے حصول میں سب سے زیادہ اضافہ ہوا۔جن میںامریکہ اور چین نے وقت کے ساتھ عالمیحکومتی قرضوں کے حجم میں سب سے زیادہ حصہ ڈالا ہے۔خاص طور پر چین کےحکومتی قرض کے حصول کی شرح دنیا سے 14گنا زیادہ رہی۔
عالمی حکومتی قرضوں نے سال 2025میں ایک نیا سنگ میل عبور کر لیا ہے۔جب صرف 25برسوں کے دوران ان قرضوں کا مجموعی حجم پانچ گنا سے زیادہ بڑھ گیا ہے۔ اور آج تمام سرکاری قرضوں میں امریکہ اور چین کا حصہ نصفسے زیادہ ہے۔گذشتہ سال کے اختتام تک امریکہ 3830 کھرب ڈالر کا عوامی قرضہ رکھتا ہے جبکہ چین 1870 کھرب ڈالرکا مقروض ہے۔ یہ مجموعی طور پر عالمی حکومتی قرضوں کا تقریباً 51 فیصد بنتا ہے۔امریکہ کے حکومتی قرضوں میں2020 میںکورونا وائرس کی وبائی مرض کے دنوں میں تیزی سے اضافہ ہوا اور یہ ایک ہی سال میں 2340 کھرب ڈالر سے 2830 کھرب ڈالر تک پہنچ گئے۔ پھر بڑھتے ہوئے خسارے، بڑھتے ہوئے سود کے اخراجات، اور کوئی بامعنی مالی استحکام نہ ہونے کی وجہ سے ان میں تیزی سے اضافے کا سلسلہ جاری ہے۔اور آج یہ 3900کھرب ڈالر کو چھو رہےہیں۔
ین کی بات کی جائے تو 2000 میں صرف20ارب ڈالر سے شروع ہونے والے، چینی حکومتی قرض میں تقریباً 18 فیصد سالانہ اضافہ ہوا۔یہ ڈالر کے لحاظ سے عالمی اوسط سے تقریباً 14 گنا زیادہ ہے۔ اس میں سے زیادہ تر بنیادی ڈھانچےکی ترقی کے لیے مقامی حکومت کے قرضے کی عکاسی کرتا ہے۔
2000 کے بعد سے عالمی قرضوں کا منظرنامہ کس طرح بدلا ہے۔
اعدادو شمار بتاتے ہیں کہ عالمی قرضوں کی مالیت میں اضافہ کئی الگ الگ مراحلکی نشاندہی کرتا ہے۔نئی صدی کے آغاز پر اان قرضوںکا حجم صرف 1970کھرب ڈالر تھا ۔جو 2007میں شروع ہونے والے عالمی اقتصادی بحران کے آغاز پربڑھ کر 3580کھرب ڈالر تک پہنچا ۔مگر 2009تک اگلے دو سالوں میںعالمی مالیاتی بحران نے خودمختار قرضوں میں تیزی سے اضافہ کیا ۔کیونکہ حکومتوں نے بینکوں کو بیل آؤٹ کیا اور محرک پروگرام شروع کیے۔ نتیجتاً عالمی حکومتی قرض کی مالیت 4550کھرب ڈالر تک جا پہنچی۔
اگلے مرحلے میں 2010سے2012 کے دوران یورپی قرضوں کا بحرانمنظر عام پر آیا جسمیں یورپی یونین کا خود مختار قرض 1310 کھرب ڈالر تک پہنچ گیا۔جس کی بنیادی وجہ یونان، اٹلی اور اسپین کے مالی ذمہ داریوں سے نمٹنے کے لئےقرض لینے کے بڑھتے ہوئے اخراجات تھے۔
بعدازاں 2013سے2019تک سستا قرض لینے کا دور آیا۔ جب کم شرح سود نے حکومتوں کو فوری مالی دباؤ کے بغیر قرضوں کے زیادہ بوجھ کو برقرار رکھنے کی اجازت دی۔ یوں عالمی قرض 6070 کھرب ڈالر سے بڑھ کر 7390 کھرب ڈالر تک پہنچ گیا۔
سال2020میں کووڈ۔ 19کی وبائی مرض کے دھماکے نے عالمی قرض کو ایک ہی سال میں 7390 کھرب ڈالر سے 8490 کھربڈالر تکپہنچا دیا، جو کہ ریکارڈ میں ایک سال کا سب سے بڑا اضافہ ہے۔اور آخر میں 2022سے2025تک عالمی حکومتی قرض میں چار ہزار کھرب ڈالر کا اضافہ قرض کے بڑھتے ہوئے اخراجات اور شرح سود میں اضافے کے ساتھ ان قرضوں کی خدماتی لاگت میں تیزی سے ہونے والے اضافے کا نتیجہ ہے۔جس کا خاص طور پر امریکہ اور ابھرتی ہوئی معیشتوں کو سامنا ہے۔












