تہران (پاک ترک نیوز ) ایران کے صدر مسعود پزشکیان کا کہنا ہے جنگ کسی کے مفاد میں نہیں۔کشیدگی کم کرنے کے لیے ہر عقلی اور سفارتی راستہ اختیار کیا جانا چاہیے۔دشمن پر عدم اعتماد اور باہمی روابط میں محتاط رہنا ایک ناقابلِ تردید ضرورت ہے۔ادھر ایرانی پارلیمنٹ کی قومی سلامتی کمیٹی کے سربراہ ابراہیم عزیزی کا کہنا ہے کہ ہم موجودہ مذاکرات کو میدانِ جنگ کا تسلسل سمجھتے ہیں، ایران نے امریکا کے ساتھ مذاکرات جاری رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔مذاکرات کا یہ مطلب نہیں کہ کسی بھی قیمت پر بات چیت کی جائے، مذاکرات کا یہ مطلب نہیں کہ دوسرے فریق کے ہر طریقہ کار کو قبول کر لیا جائے۔ایران نے واضح ریڈ لائنز مقرر کر رکھی ہیں جن کا احترام ضروری ہے، ایران کی مذاکراتی حکمتِ عملی مکمل قومی مفادات اور سیکیورٹی تقاضوں کے تحت ہوتی ہے۔












