اسلام آباد ( پاک ترک نیوز) وفاقی آئینی عدالت نے سی ڈی اے کو چار ہفتوں میں کچی آبادی ریگولرائزیشن پالیسی بنانے کا حکم دے دیا۔
چیف جسٹس امین الدین خان نے استفسار کیا کیا اسلام آباد میں کچی آبادیوں کے لیے کوئی خاص جگہ مختص ہے؟ ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کچی آبادیوں کو 1995 میں تسلیم کیا گیا تھا، ،چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے اگر پالیسی موجود ہے تو پھر مسئلہ کیا ہے؟
سی ڈی اے وکیل نے کہا اسلام آباد میں کچی آبادی کے نام پر دی گئی جگہ کا غلط استعمال ہو رہا ہے،وکیل فیصل صدیقی نے کہا اسلام آباد کی 1995 سے آج تک کی ہاوسنگ پالیسیز میں کچی آبادیوں کو تسلیم کیا گیا۔
راتوں رات کچی آبادیاں مسمار ہو رہی ہیں کچی آبادیوں کی یہ رحم کی اپیل نہیں جائز حق کی درخواست ہے،ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کچی آبادیاں اسلام آباد کے ماسٹر پلان کا حصہ نہیں تھیں،عدالتی فیصلوں کے ذریعے کچی آبادیوں کی ریگولرائزیشن کا کہا گیا۔






