پیرس(پاک ترک نیوز ) فرانس کی فضائیہ نے جنگی طیاروں کے ساتھ مصنوعی ذہانت سے لیس بغیر پائلٹ جنگی طیاروں کے تجرباتی استعمال کا منصوبہ بنا لیا، پہلا تجربہ 2028 میں کیے جانے کا امکان ہے۔
فرانسیسی فضائیہ، ڈائریکٹوریٹ جنرل فار آرمامنٹ اور دفاعی مصنوعی ذہانت کے ادارے کے اشتراک سے ’’ہائپیریون‘‘ منصوبے پر کام کر رہی ہے، جس کا مقصد جنگی طیاروں میں مصنوعی ذہانت کے استعمال اور انسان بردار و بغیر پائلٹ طیاروں کے باہمی تعاون کو جانچنا ہے۔
فرانسیسی فضائیہ کے مطابق منصوبے کے تحت جنگی طیاروں کے لیے کھلا اور مرحلہ وار تبدیل کیے جانے کے قابل نظام تیار کیا جائے گا، جس پر فرانسیسی حکومت کا براہ راست کنٹرول ہوگا۔ اس کا مقصد ایسے تجارتی نظاموں پر انحصار کم کرنا ہے جن میں سینسرز اور ہتھیاروں کے نظام ایک مخصوص کمپنی کے ساتھ منسلک ہوتے ہیں۔
فرانس کے دفاعی مصنوعی ذہانت کے ادارے کے مطابق مصنوعی ذہانت کو کمانڈ اور کنٹرول، مشن کی خودکاری، پرواز کے دوران فیصلہ سازی اور مشن کی منصوبہ بندی میں استعمال کیا جائے گا۔
فرانسیسی فضائیہ نے مون دو مارسان کے فضائی اڈے پر دو میراج 2000 جنگی طیاروں کو مصنوعی ذہانت کے تجرباتی پلیٹ فارم میں تبدیل کرنا شروع کر دیا ہے۔ ان طیاروں میں نیا کمپیوٹر نظام نصب کیا جا رہا ہے، جس کے ذریعے رواں سال کے اختتام تک مختلف تجربات شروع کیے جائیں گے۔
ابتدائی تجربات میں مصنوعی ذہانت کے ذریعے پرواز کے راستے بہتر بنانے، جنگی حالات میں فیصلہ سازی اور فضا سے فضا یا فضا سے زمین پر مار کرنے والے ہتھیاروں کے استعمال کے مناسب وقت کا تعین شامل ہوگا۔
فرانس 2028 میں ایک بغیر پائلٹ طیارے کو تجرباتی طور پر جنگی طیارے کے ساتھ اڑائے گا۔ تاہم حکام کے مطابق یہ ضروری نہیں کہ یہی طیارہ مستقبل میں رافال جنگی طیارے کے ساتھ کام کرنے والا مستقل جنگی ساتھی طیارہ بنے۔
فرانس نے رافال طیارے کے مستقبل کے ایف پانچ معیار کا پہلا ورژن 2033 تک تیار کرنے کا ہدف مقرر کر رکھا ہے، جبکہ اس سے پہلے موجودہ ایف چار معیار کے تحت انسان بردار جنگی طیاروں اور باہمی تعاون کرنے والے بغیر پائلٹ طیاروں کے تجربات کیے جائیں گے۔
فرانسیسی حکام کے مطابق رافال میں مصنوعی ذہانت شامل کرنے کا بنیادی مقصد پائلٹوں پر بڑھتے ہوئے ذہنی دباؤ کو کم کرنا اور انہیں پیچیدہ جنگی حالات میں بہتر فیصلے کرنے میں مدد دینا ہے۔
فرانس کا کہنا ہے کہ مستقبل میں ایسا نظام بھی ممکن ہوگا جس میں ایک جنگی طیارہ صبح ایک مشن مکمل کرے، اس دوران دشمن کی نئی حکمت عملی کے مطابق نظام میں تبدیلی کی جائے اور اسی روز شام کے مشن کے لیے طیارے میں تازہ ترین سافٹ ویئر نصب کر دیا جائے۔










