نیویارک(پاک ترک نیوز )امریکی عدالت نے ہالی وڈ فلم ساز جیمز کیمرون اور ڈزنی کے خلاف فلموں ’’اوَتار: دی وے آف واٹر‘‘ اور ’’اوَتار: فائر اینڈ ایش‘‘ سے متعلق کاپی رائٹ مقدمہ خارج کردیا۔
رپورٹس کے مطابق مصنف اور مدعی ایرک رائڈر نے الزام عائد کیا تھا کہ دونوں فلموں میں ان کی سائنس فکشن کہانی ’’کے آر زیڈ‘‘ کے عناصر استعمال کیے گئے، جسے انہوں نے 1996 سے 2001 کے درمیان تیار کیا تھا۔
ایرک رائڈر کے مطابق انہوں نے 2000 میں اپنی کہانی جیمز کیمرون کی کمپنی لائٹ اسٹورم انٹرٹینمنٹ کو بھی پیش کی تھی، تاہم کمپنی نے اس منصوبے کو آگے بڑھانے سے انکار کردیا تھا۔
مدعی نے خاص طور پر ایک ایسے مادے کے تصور کی مماثلت کی نشاندہی کی جو انسانی زندگی کو طویل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ ’’اوَتار: دی وے آف واٹر‘‘ میں انسان سمندری مخلوق ٹلکن کا شکار کرکے ایک خاص مادہ حاصل کرتے ہیں جو بڑھاپے کے عمل کو روکنے میں مدد دیتا ہے۔
عدالت نے قرار دیا کہ دونوں تخلیقات میں بیان کردہ کئی مماثلتیں بڑھا چڑھا کر پیش کی گئی ہیں یا ایسی عمومی اور مانوس سائنس فکشن تصورات پر مبنی ہیں جنہیں کاپی رائٹ قانون کے تحت تحفظ حاصل نہیں۔
عدالت کے مطابق دونوں کہانیوں کے محفوظ حصوں، جن میں پلاٹ، کردار، مکالمے، ماحول، کیفیت اور موضوعات شامل ہیں، میں قابل ذکر مماثلت ثابت نہیں ہوئی۔
جج جارج ایچ وو نے یکم اکتوبر کو مقدمہ حتمی طور پر خارج کردیا۔ مدعی ایرک رائڈر نے عدالت کو بتایا کہ وہ مقدمے میں مزید ترمیم کرنے کے بجائے فیصلے کے خلاف اپیل کریں گے۔
ایرک رائڈر اس سے قبل پہلی ’’اوَتار‘‘ فلم کے حوالے سے بھی جیمز کیمرون اور لائٹ اسٹورم انٹرٹینمنٹ کے خلاف مقدمہ دائر کرچکے ہیں۔ اس مقدمے میں بھی عدالت نے قرار دیا تھا کہ جیمز کیمرون کی کہانی رائڈر کی تخلیق سے پہلے تیار کی گئی تھی اور دونوں کاموں میں قابل ذکر مماثلت موجود نہیں تھی۔
بعد ازاں اس فیصلے کے خلاف اپیل بھی مسترد کردی گئی تھی۔




