استنبول(پاک ترک نیوز )ترکیہ اور یورپی خلائی ایجنسی کے درمیان تعاون کی بحالی اور مشترکہ خلائی پروگراموں کی تیاری کے لیے بات چیت جاری ہونے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ خلائی شعبے کی ماہر اور ترکیہ کی پہلی خاتون مشابہ خلائی مشن کی خلاباز گولین دیدے نے امید ظاہر کی ہے کہ ان مذاکرات کے مثبت نتائج سامنے آئیں گے اور انقرہ اور یورپی خلائی ایجنسی کے درمیان سابقہ تعاون کے معاہدوں کو دوبارہ فعال کیا جا سکے گا۔
گولین دیدے نے جمعے کے روز بتایا کہ یورپی خلائی شعبے کے حکام ترکیہ کے ساتھ تعاون بڑھانے میں زیادہ دلچسپی لے رہے ہیں۔ انہوں نے ترکیہ کی جانب سے آرٹیمس معاہدوں پر دستخط کا بھی خیرمقدم کیا، جو شہری خلائی تحقیق میں عالمی تعاون کے لیے ایک بین الاقوامی فریم ورک فراہم کرتے ہیں۔
وہ جنوبی ترکیہ کے شہر انطالیہ میں منعقدہ بین الاقوامی خلائی کانگریس کے موقع پر گفتگو کر رہی تھیں۔ ان کے مطابق اس کانگریس نے عالمی خلائی برادری میں ترکیہ کی اہمیت اجاگر کرنے میں مدد دی ہے۔ کانگریس میں مختلف ممالک کے مندوبین، ماہرینِ تعلیم اور خلائی صنعت سے وابستہ کمپنیوں نے شرکت کی۔
گولین دیدے کا کہنا تھا کہ یورپی خلائی ایجنسی ہمیشہ ترکیہ کے ساتھ تعاون کی خواہاں رہی ہے، تاہم اس تعاون کو آگے بڑھانے کے لیے ترکیہ کی خلائی صلاحیتوں میں مسلسل سرمایہ کاری ضروری ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ بین الاقوامی خلائی مشنوں اور سرگرمیوں میں ترک خلابازوں کی زیادہ شرکت سے مستقبل کے مشترکہ منصوبوں میں ترکیہ کی شراکت داری مضبوط ہو سکتی ہے۔
انہوں نے ترکیہ پر زور دیا کہ وہ یورپی ادارے برائے موسمیاتی مصنوعی سیاروں کے استعمال میں زیادہ فعال کردار ادا کرے اور اقوامِ متحدہ کی بیرونی خلا کے پُرامن استعمال سے متعلق کمیٹی کے ساتھ بھی تعاون بڑھائے۔
واضح رہے کہ یورپی خلائی ایجنسی کے ساتھ تعاون کی بحالی سے ترکیہ کے لیے خلائی تحقیق، مصنوعی سیاروں اور بین الاقوامی خلائی منصوبوں میں نئے مواقع پیدا ہو سکتے ہیں، تاہم مذاکرات اور ممکنہ معاہدوں کی باضابطہ تفصیلات سامنے آنا ابھی باقی ہیں۔











