پشاور(پاک ترک نیوز ) وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے حکومت اور اپوزیشن کی مذاکراتی کمیٹی کو بھیجا گیا ڈرافٹ منظر عام پر لے آتے ہوئے کہا ہے کہ یہ پی ٹی آئی کے مطالبات تھے، ہیں اور رہیں گے۔
سہیل آفریدی کی جانب سے جاری ڈرافٹ میں سیاسی استحکام، آئین و قانون کی بالادستی، جمہوری عمل کے تسلسل اور قومی یکجہتی پر زور دیا گیا ہے۔
ڈرافٹ کے مطابق وزیراعظم اور دونوں ایوانوں میں قائدینِ حزب اختلاف کے درمیان باقاعدہ ملاقات ہونی چاہیے، جبکہ اہم سیاسی، قومی، آئینی، قانونی اور جمہوری معاملات پر دو ماہ کے اندر مؤثر پیش رفت یقینی بنائی جائے۔
وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کے مطابق وزیراعظم حکومتی اتحاد، پیپلز پارٹی اور اپوزیشن کے نمائندوں پر مشتمل مشترکہ سیاسی مذاکراتی کمیٹی تشکیل دیں، جو ایک ماہ میں قابلِ ذکر پیش رفت کرکے اپنی سفارشات متعلقہ قیادت کو پیش کرے۔
ڈرافٹ میں جمہوریت، سیاست، عدلیہ اور صحافت کی مکمل آزادی یقینی بنانے کا مطالبہ بھی کیا گیا ہے۔
پی ٹی آئی نے عمران خان اور بشریٰ بی بی کو آئین، قانون اور جیل قواعد کے مطابق تمام قانونی، انسانی اور طبی حقوق فراہم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ ڈرافٹ کے مطابق عمران خان کے علاج کے معاملے میں ان کے ذاتی یا نامزد ڈاکٹروں کی طبی رائے اور مشوروں کو بھی مدنظر رکھا جائے۔
ڈرافٹ میں عمران خان اور بشریٰ بی بی کو اہلخانہ، نامزد وکلا اور مجاز رفقا سے ملاقات کا حق دینے، جبکہ تمام مقدمات کے فیصلے آئین و قانون اور شفاف عدالتی طریقہ کار کے مطابق بلاجواز تاخیر کے بغیر کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
پی ٹی آئی نے زیرحراست افراد کی قانونی درخواستوں پر دس دن کے اندر کارروائی شروع یا مکمل کرنے، جبکہ یاسمین راشد اور بشریٰ بی بی سمیت سیاسی مقدمات کا سامنا کرنے والی خواتین کو انسانی ہمدردی کی بنیاد پر جلد رہا کرنے کا مطالبہ بھی کیا ہے۔
خیبرپختونخوا میں امن و امان کی صورتحال کے حوالے سے ڈرافٹ میں وفاق اور صوبے کے درمیان مؤثر مشاورت پر زور دیا گیا ہے۔ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے مجاز نمائندگان کو 72 گھنٹوں میں اجلاس کرکے امن و امان کی جامع حکمت عملی مرتب کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
ڈرافٹ کے مطابق امن و امان کی حکمت عملی پر آئین و قانون کے دائرہ کار میں وفاق اور صوبے کی مشترکہ ذمہ داری ہوگی۔
پی ٹی آئی نے واضح کیا ہے کہ وفاقی حکومت کی تحریری یقین دہانیوں اور ان پر مؤثر عملدرآمد کے بعد لانگ مارچ منسوخ کیا جائے گا۔












