کراچی (پاک ترک نیوز)کراچی میں میر رضا قتل کیس میں وکیل جبران ناصر نے مطالبہ کیا ہے کہ جوڈیشل کمیشن کی رپورٹ مقتول کے والدین کو فراہم کی جائے اور واقعے کی مزید تحقیقات کے لیے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم تشکیل دی جائے۔
سندھ ہائی کورٹ میں میر رضا کے اہلخانہ کے ہمراہ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے جبران ناصر نے کہا کہ جوڈیشل کمیشن نے 15 اکتوبر کو اپنی رپورٹ جمع کرا دی تھی، جبکہ اب یہ معلوم ہوا ہے کہ رپورٹ اہلخانہ کو فراہم کرنے اور اسے عام کرنے کا فیصلہ صوبائی کابینہ کرے گی۔ ان کے مطابق رپورٹ کل کابینہ کے سامنے پیش کی جائے گی۔
جبران ناصر نے بتایا کہ وہ 12 اکتوبر کو وزیراعلیٰ سندھ کو خط لکھ کر مطالبہ کر چکے ہیں کہ رپورٹ مقتول کے والدین کو فراہم کی جائے اور واقعے کی تحقیقات کے لیے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم تشکیل دی جائے۔
انہوں نے کہا کہ عدالتی کمیشن قائم کرنے کا مقصد اہلخانہ کے سوالات کے جوابات تلاش کرنا اور خاندان کا اعتماد بحال کرنا تھا۔ کمیشن اپنا مؤقف پیش کر چکا ہے، اس لیے اب اس کی سفارشات کی روشنی میں مزید کارروائی ہونی چاہیے۔
جبران ناصر کا کہنا تھا کہ پولیس کو الگ رکھ کر تحقیقات اور ذمہ داری کا تعین کیا جائے، جبکہ حکومت خود کو پولیس کے مؤقف کے ساتھ منسلک نہ کرے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ رپورٹ کو صیغۂ راز میں رکھنے کی وجہ کیا ہے اور کس کی پشت پناہی کے باعث اسے منظرعام پر نہیں لایا جا رہا۔
یہ بھی پڑھیں: امریکا میں کاروباری ہوا بازی کا شعبہ شدید اتار چڑھاؤ کا شکار
وکیل نے خبردار کیا کہ اگر رپورٹ فراہم نہ کی گئی تو اہلخانہ عدالت سے رجوع کریں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ میر رضا قتل کیس کے باعث عام شہری بھی عدم تحفظ کا شکار ہیں اور معاملے میں شفاف تحقیقات ضروری ہیں۔
اس موقع پر میر رضا کے والد میر حسین نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کمیشن میں اہلخانہ کے تمام خدشات درست ثابت ہوئے ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ کابینہ کے اجلاس کے بعد جوڈیشل کمیشن کی رپورٹ خاندان کو فراہم کی جائے اور کمیشن کی سفارشات کی روشنی میں کارروائی بھی یقینی بنائی جائے۔







