لاہور(پاک ترک نیوز ) ڈیانا نے احمد تنویر پر تشدد اور زیادتی کے الزامات کی تردید کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ نہ ان پر تشدد کیا گیا اور نہ ہی ان کے ساتھ زیادتی یا زبردستی کا کوئی واقعہ پیش آیا۔
اپنے بیان میں ڈیانا نے سوال اٹھایا کہ پولیس نے احمد تنویر کو کس بنیاد پر گرفتار کیا۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ خود عدالت جا کر اپنا بیان ریکارڈ کروانا اور اپنا مؤقف واضح کرنا چاہتی تھیں، لیکن انہیں ایسا کرنے کا موقع نہیں دیا گیا۔
ڈیانا کے مطابق انہیں قتل کیے جانے کے خدشے سے خوفزدہ کیا گیا اور زبردستی پاکستان سے نکال دیا گیا۔ ان کا دعویٰ ہے کہ ان کا پاسپورٹ بھی لے لیا گیا اور امیگریشن حکام کے ذریعے انہیں ملک سے باہر بھیجنے کی کارروائی مکمل کی گئی۔
ڈیانا کا کہنا ہے کہ انہیں اپنی مرضی کا اظہار کرنے، فیصلے کرنے اور اپنے حقوق کا دفاع کرنے کا موقع نہیں ملا۔ ان کے مطابق پاسپورٹ پر ملک سے باہر جانے کی مہر لگنے سمیت پیش آنے والے واقعات نے انہیں یہ احساس دلایا جیسے وہ کوئی مجرم ہوں اور انہیں سزا دے کر پاکستان سے نکالا جا رہا ہو۔
ڈیانا نے اپنے بیان میں محسن اور علی زین کو بھی معاف کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس معاملے کو مزید آگے نہیں بڑھانا چاہتیں۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ ان کی مرضی اور اجازت کے بغیر ان کے نام کو اس تنازع میں استعمال نہ کیا جائے۔ ڈیانا کے مطابق ذاتی اختلافات اور مسائل کے حل کے لیے ان کا نام استعمال کرنا بند کیا جائے اور انہیں عوامی بحث کا حصہ بنا کر ان کی عزت کو نقصان نہ پہنچایا جائے۔
ڈیانا نے اپیل کی کہ اس معاملے میں دوسرے لوگوں کو بھی گھسیٹ کر انہیں تکلیف نہ دی جائے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ بیان اپنا مؤقف واضح کرنے اور مستقبل میں ان کی اجازت کے بغیر ان کے نام کے استعمال کو روکنے کے لیے جاری کیا گیا ہے۔












