پشاور(پاک ترک نیوز) گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے کہا ہے کہ گورنر راج کو غلط قرار دینے کے مولانا فضل الرحمان کے بیان سے بہت مایوسی ہوئی، مولانا کے بغیر ہماری حکومت بن گئی ہے اور ان کے بغیر بھی چلتی رہے گی۔ کیا جو چیز اپنے پاس آئے، صرف وہی حلال ہوتی ہے؟ مولانا فضل الرحمان صوبے کی ترقی اور خوشحالی کے لیے ہمارا ساتھ دیں۔
پشاور میں ذرائع ابلاغ سے گفتگو کرتے ہوئے فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ امن و امان کا قیام ہماری اولین ترجیح ہے، جبکہ خیبرپختونخوا کی سابق صوبائی حکومت کی دہشت گردی کے خلاف کارکردگی صفر تھی۔ جن لوگوں نے صوبے کو تباہ کیا، ان کا باب بند ہو چکا ہے۔
گورنر خیبرپختونخوا نے کہا کہ ہم جمہوریت چاہتے ہیں، لیکن آئین اور قانون کو نہ ماننے والوں کے خلاف لڑیں گے۔ اب خیبرپختونخوا اور وفاق کے درمیان فاصلے ختم ہو گئے ہیں اور صوبے کے فیصلے یہیں ہوں گے۔
فیصل کریم کنڈی نے مولانا فضل الرحمان سے سوال کیا کہ ڈیرہ اسماعیل خان، بنوں اور ٹانک میں کون کون سے معدنی ذخائر موجود ہیں؟ انہوں نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ دنیا کی معروف کمپنیاں آئیں اور ہمارے ساتھ مشترکہ منصوبوں کے تحت معدنیات نکالیں۔ ان کے بقول معدنی وسائل سے ترقی اور خوشحالی آئے گی تو لوگ ان کی بات نہیں مانیں گے۔
گورنر خیبرپختونخوا نے کہا کہ اگر گورنر راج حرام ہے تو فوجیوں سے زمین لینا حلال ہے؟ انہوں نے سابق صوبائی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اس کے فیصلے افغانستان کے شہر جلال آباد سے آتے تھے، جبکہ موجودہ حکومت کے فیصلے صوبے میں ہی ہوں گے۔
یہ بھی پڑھیں: چین میں 2 ٹن وزن اٹھانے والے بڑے ٹیتھرڈ بیلون کا کامیاب آزمائشی استعمال
فیصل کریم کنڈی نے دعویٰ کیا کہ مراد سعید سرحد پار موجود ہیں اور وہ بانی پاکستان تحریک انصاف کے منظور نظر تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ بانی پی ٹی آئی کی جان اس طوطے میں ہے، اسے پکڑنے سے انہیں تکلیف ہوگی۔
امن و امان کی صورت حال پر گفتگو کرتے ہوئے گورنر نے بتایا کہ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے خیبرپختونخوا کو 10 بکتر بند گاڑیاں فراہم کی ہیں، جبکہ انسپکٹر جنرل پولیس اور دیگر متعلقہ حکام سے سکیورٹی منصوبہ طلب کیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ صوبے کے 10 سے 12 اضلاع کو ماڈل اضلاع بنانے کا منصوبہ ہے، جہاں ترقیاتی کاموں اور امن و امان کی بہتری پر توجہ دی جائے گی۔






