بیجنگ(پاک ترک نیوز) چین میں ایک بڑے ٹیتھرڈ بیلون کا آزمائشی استعمال کیا گیا ہے، جو 2 ٹن تک وزن اٹھا کر تعمیراتی سامان دشوار گزار پہاڑی علاقوں اور ماحولیاتی طور پر حساس مقامات تک پہنچانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
اس جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے ایسے علاقوں میں تعمیراتی سامان پہنچانا ممکن ہو سکے گا جہاں سڑکوں کی تعمیر مشکل، مہنگی یا ماحول کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے۔
ٹیتھرڈ بیلون کو زمین کے ساتھ ایک مضبوط رسی یا کیبل کے ذریعے منسلک رکھا جاتا ہے، جبکہ اس کی مدد سے بھاری سامان کو فضائی راستے سے مطلوبہ مقام تک منتقل کیا جا سکتا ہے۔
ماہرین کے مطابق اس ٹیکنالوجی کا استعمال پہاڑی علاقوں میں تعمیراتی منصوبوں، بنیادی ڈھانچے کی ترقی اور دور دراز مقامات تک ضروری سامان کی ترسیل میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔ اس سے نئی سڑکیں بنانے کی ضرورت کم کرنے اور قدرتی ماحول کو پہنچنے والے ممکنہ نقصان میں کمی لانے کے امکانات بھی پیدا ہوتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: مائیکرو سافٹ کا ونڈوز 11 کی رفتار میں 20 فیصد تک اضافے کا اعلان
تاہم، اس ٹیکنالوجی کے وسیع پیمانے پر استعمال کے لیے اس کی عملی کارکردگی، موسمی حالات میں استحکام، حفاظتی انتظامات اور لاگت کا مزید جائزہ لینا ضروری ہوگا۔
چین کا یہ آزمائشی اقدام دشوار گزار علاقوں میں تعمیراتی سامان کی ترسیل کے لیے جدید فضائی ٹیکنالوجی کے استعمال کی جانب ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا سکتا ہے۔












