لاہور(پاک ترک نیوز )سپریم کورٹ نے چھوٹو گینگ کے سرغنہ غلام رسول عرف چھوٹو سمیت 3 ملزمان کی 6، 6 بار سزائے موت برقرار رکھتے ہوئے اپیلیں خارج کر دیں۔جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی، بینچ میں جسٹس اشتیاق ابراہیم اور جسٹس صلاح الدین پنہور شامل تھے۔
عدالت نے ریمارکس دیے کہ ذاتی دشمنی کے مقدمات کا چھوٹو گینگ جیسے سنگین جرائم سے موازنہ نہیں کیا جا سکتا۔دوران سماعت عدالت کو بتایا گیا کہ 2016ء میں راجن پور میں چھوٹو گینگ کے خلاف پولیس اہلکاروں کے قتل، اغواء اور دہشت گردی کے الزامات کے تحت مقدمہ درج ہوا تھا، گینگ نے 24 پولیس اہلکاروں کو اغواء کیا جبکہ 6 اہلکاروں کو قتل اور 7 کو زخمی کیا۔
ایڈیشنل پراسیکیوٹر جنرل کے مطابق پولیس اہلکاروں کو بازیاب کروانے کے لیے پاک فوج کو طلب کرنا پڑا تھا۔عدالت نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ یہ گینگ اپنے علاقے میں ’بادشاہ‘ بن چکا تھا اور اس کی کارروائیوں کے باعث پولیس اسٹیشن تک بند کرنا پڑے۔
ملزمان کے وکیل نے مؤقف اپنایا کہ کسی اہلکار کو شدید نقصان نہیں پہنچا تاہم عدالت نے اس مؤقف کو مسترد کر دیا۔یاد رہے کہ ٹرائل کورٹ نے 22 ملزمان کو سزائیں سنائی تھیں جن میں سے 20 کو سزائے موت اور 2 کم عمر ملزمان کو عمر قید دی گئی تھی۔ہائی کورٹ نے کچھ ملزمان کو بری اور دیگر کی سزائیں کم کی تھیں تاہم سپریم کورٹ نے مرکزی ملزمان کی سزائے موت برقرار رکھی جبکہ دیگر کی عمر قید کی سزائیں بھی برقرار رکھی ہیں۔











