غزہ(پاک ترک نیوز)صیہونیوں کی جانب سے مقبوضہ فلسطینی علاقوں سے فلسطینیوں کو بےدخل کرنے اور ان کی جگہ دنیا بھر سے یہودیوں کو لاکر بسانے کی مہم 59سال سے جاری ہے۔ اس سلسلے میں جون 1967 سے اکتوبر 2026 تک صرف مقبوضہ مشرقی یروشلم میں فلسطینیوں کے 3917 گھروں کو مسمار کیا گیا ہے۔
یہ انکشاف اردن کی رائل کمیٹی برائے امور یروشلم نے جاری کیے گئے تازہ اعدادو شمار میں کیا ہے۔ مغربی کنارے کے دیگر حصوں اور غزہ میں فلسطینیوں کے گھر مسمار کیے جانے کی مہم اس کے علاوہ ہے۔
کمیٹی کے سیکرٹری جنرل عبداللہ کنان نے اتوار کے روز یہ رپورٹ پیش کرتے ہوئےکہا کہ فلسطینیوں کے گھروں کا انہدام اور مسماری اسرائیل کی ایک منظم سازش کا حصہ ہے۔ تاکہ فلسطینی علاقوں میں آبادی کے تناسب کو جبری طور پر تبدیل کرسکے۔ مشرقی یروشلم میں بھی زمین پر قبضے کی یہی مہم گھروں کے انہدام کی صورت میں جاری ہے۔انہوں نےکہا کہ اسرائیل کی یہ ساری کارروائیاں انسانی حقوق اور بین الاقوامی قانون کے خلاف ہیں۔اس کے علاوہ فلسطینیوںپر بھاری جرمانوں کا حربہ بھی سالہاسال سے جاری ہے۔ تاکہ وہ تنگ آکر یہاں سے نقل مکانی کر جائیں۔
یہ بھی پڑھیں: پاک۔افغان امن عمل کو روس کے ذریعے ایک اور موقعہ مل سکتا ہے
عبداللہ کنان نے کہا کہ اس وقت بھی مشرقی یروشلم کے درجنوں خاندان سیلوان کے علاقے اور اس سے متصل قدیمی شہر سمیت مسجد اقصیٰ کے گرد ونواح میں فوری خطرات کا شکار ہیں۔ کیونکہ اسرائیل ان کے گھروں پر قبضہ کرنے کے حربے آزما رہا ہے۔ چنانچہ ہم بین الاقوامی برادری سے مطالبہکرتے ہیںکہ وہ اسرائیل کی ان کارروائیوں کے خلاف اقدامات کرے اور اسرائیل کو جبری بے دخلیوں سے روکے ۔






