واشنگٹن ( پاک ترک نیوز) سوچیے۔۔۔ آسمان پر سورج کی روشنی جمع کرنے والے مصنوعی سیارے ہوں اور پھر خلا سے بجلی کی شعاعیں سیدھی زمین پر پہنچنے لگیں یہ کسی سائنس فکشن فلم کا منظر نہیں۔۔۔ امریکا میں اس ٹیکنالوجی پر عملی کام شروع ہوگیا ہے، جس کے ذریعے دور دراز علاقوں، حتیٰ کہ فوجی اڈوں کو بھی بغیر ایندھن کے قافلوں کے بجلی فراہم کی جاسکے گی۔دنیا بجلی پیدا کرنے کے لیے زمین پر سورج، ہوا، پانی اور ایندھن کا سہارا لیتی ہے۔۔۔ مگر اب نظر زمین سے اٹھ کر خلا تک پہنچ گئی ہے۔امریکا میں ایک کمپنی نے ایسا نظام تیار کرنے کے لیے سرکاری معاونت حاصل کرلی ہے، جس کے تحت مصنوعی سیارے خلا میں سورج کی روشنی جمع کریں گے۔۔۔ اسے توانائی میں تبدیل کریں گے۔۔۔ اور پھر مخصوص مقامات پر زمین تک پہنچائیں گے۔ لیکن اصل حیرت یہاں ہے!
خلا سے آنے والی توانائی کسی کھلے نشانے پر نہیں بلکہ بالکل مخصوص مقام پر پہنچائی جائے گی۔اس کے لیے زمین پر ایک چھوٹا سا نشاندہی کرنے والا آلہ نصب کیا جائے گا۔ مصنوعی سیارہ اس آلے کے سگنل کو تلاش کرے گا، اس کی شناخت کی تصدیق کرے گا اور پھر اسی مقام پر توانائی منتقل کرے گا۔یعنی تصور کریں۔۔۔ خلا میں موجود مصنوعی سیارہ، زمین پر موجود ایک چھوٹے سے نشان کو تلاش کرتا ہے۔۔۔ ہدف کی تصدیق کرتا ہے۔۔۔ اور پھر ہزاروں کلومیٹر دور سے توانائی اسی مقام تک پہنچا دیتا ہے!کمپنی کے مطابق توانائی کی منتقلی شروع ہونے سے پہلے نشان دہی کرنے والے آلے کا فعال اور تصدیق شدہ ہونا ضروری ہوگا، تاکہ جعلی سگنل کے ذریعے نظام کو دھوکا دینے یا توانائی کا رخ بدلنے کی کوشش روکی جاسکے۔
یہ بھی پڑھیں: امریکی فوج کا آبنائے ہرمز میں روشنی کا وار ،امریکی لیزر سے ڈرون نشانے پر
ایسے دور دراز فوجی اڈے جہاں بجلی پہنچانے کے لیے بار بار ایندھن کے ٹرک بھیجنے پڑتے ہیں۔۔۔ وہاں خلا سے براہِ راست توانائی پہنچائی جاسکے گی۔مجوزہ مصنوعی سیارے سورج کی روشنی جمع کرکے اسے قریبِ سرخ روشنی کی شعاعوں میں تبدیل کریں گے، جو نظر نہیں آتیں اور توانائی وصول کرنے والے بڑے شمسی مراکز تک بھیجی جائیں گی۔اگر یہ منصوبہ کامیاب ہوگیا تو بجلی پیدا کرنے کا تصور ہی بدل سکتا ہے۔۔۔زمین پر بجلی بنانے کے بجائے خلا میں سورج کی توانائی جمع ہوگی۔۔۔ اور پھر خلا سے زمین تک پہنچائی جائے گی۔












