انقرہ (پاک ترک نیوز)
ترک صدر رجب طیب اردوان نے کہا ہے کہ ان کے ملک کے لیے ایک نئے دور کے دروازے کھل رہے ہیں اور ترکیہ کی صدی کا وژن حقیقت میں بدل رہا ہے۔
وہ گذشتہ روز یہاں اپنی جماعت جسٹس اینڈ ڈویلپمنٹ پارٹی کے 32 ویں سالانہ مشاورتی اور تشخیصیاجلاس میں خطاب کر رہے تھے۔ ترک صدر نے کہا کہ ہمارے ملک کے لیے ایک نیا دور شروع ہو رہا ہے۔ قدم بہ قدم ہم ترکیہ کی صدی کے اپنے وژن کو حقیقت میں بدل رہے ہیں۔
اردوان نے کہا کہ دو روزہ اجلاس میں خارجہ پالیسی، سلامتی اور معیشت سمیت وسیع مسائل پر بات کی گئی۔ جبکہ "دہشت گردی سے پاک ترکیہ” کے حوالے سے ہونے والی پیش رفت اور اب سے اٹھائے جانے والے اقدامات ایجنڈے کے اہم ترین آئٹمز میں شامل تھے۔صدر نے کہا کہ ہم دیکھ رہے ہیں کہ ہمارے پیغامات، جو ہمارے دوستوں اور بھائیوں کو یقین دلاتے ہیں اور ہمارے مخالفین اور حریفوں میں خوف پیدا کرتے ہیں اپنے ہدف تک پہنچ رہے ہیں۔
ترک صدر نے اس بات پر زور دیا کہ یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ یہ نیا دور جس کے پیرامیٹرز تشکیل پا رہے ہیں نہ صرف جسٹس اینڈ ڈویلپمنٹ پارٹی، نیشنلسٹ موومنٹ پارٹی اور ڈیموکریسی اینڈ پروگریس پارٹی پر بلکہ پوری سیاسی اسٹیبلشمنٹ اور تمام سیاسی اداکاروں پر اہم ذمہ داریاں عائد کرتےہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ وہ اس ملک کو نصف صدی پر محیط دہشت گردی کے طوق سے آزاد ہونے سے نہیں روک سکیں گے۔ اورہمارے ملک کو ان برسوں میں علیحدگی پسند دہشت گردی کی قیمت تقریباً 2 ٹریلین ڈالر ادا کرنا پڑی ہے۔
اردوان نے اس بات پر زور دیا کہ ترکوں، کردوں اور عربوں کے درمیان اتحاد کے مطالبات سے کسی کو تکلیف نہیں پہنچنی چاہیے۔انہوں نے امت کے تصور کی مخالفت کرنے والوں پر تنقید کرتے ہوئےانکی قومی اقدار سے لاتعلقی پر سوال اٹھا تے ہوئے تقسیم کے بیج بونے کی کوششوں کے خلاف خبردار کیا۔انہوں نے کہا کہ ترکیہ کے 81 صوبوں میں ہی نہیں بلکہ پوری دنیا میں غزہ، دمشق، یروشلم، عراق، پاکستان، صومالیہ اور اس سے آگے بھی اس قیادت کی کامیابی کے لیے دعائیں کی جارہی ہیں۔
ترک صدر نے مزید کہا کہ وقت آگیا ہے کہ ترکی اپنی بلندی کو آگے بڑھائے۔ اب وقت آگیا ہے کہ ہماری قوم اس کا دعویٰ کرے جس کی وہ حقدار ہے۔ انہوں نے آنے والے روشن مستقبل کے لیے اپنے جوش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اب وقت ہے کہ ترکی کی صدی کو بلند کیا جائے۔












