واشنگٹن (پاک ترک نیوز) آپ سب تیار ہیں؟ میڈیا ہمیشہ کی طرح بڑی تعداد میں موجود ہے۔
میں اپنے کابینہ کے شاندار اراکین کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔ یہ سب بہت بہترین کام کر رہے ہیں، اور تقریباً سب اس بات سے متفق ہیں، خاص طور پر ہمارے نئے رکن، ہوم لینڈ سیکیورٹی کے سیکرٹری مارک وین ملن۔ شکریہ مارک۔
ہم انہیں اچھی طرح جانتے ہیں۔ وہ ایک بہت مقبول اور مؤثر سینیٹر تھے۔ ہم آپ کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کرتے ہیں۔ آپ کا خاندان بھی بہت شاندار ہے۔
ہم اب 41ویں دن میں داخل ہو چکے ہیں جسے ہم ڈیموکریٹس کی جانب سے شرمناک شٹ ڈاؤن کہتے ہیں۔ آپ ایسے محکمے میں آئے ہیں جو بند کر دیا گیا تھا۔ ڈیموکریٹس امریکی عوام کو سزا دے رہے ہیں، خاص طور پر ہوائی اڈوں پر مسافروں کو۔
وہ اوپن بارڈرز چاہتے ہیں اور غیر قانونی مجرموں کو معافی دینا چاہتے ہیں۔ وہ ایسے شہروں کی حمایت کرتے ہیں جہاں مجرموں کو تحفظ ملتا ہے۔ ہم اسی چیز کے خلاف لڑ رہے ہیں۔
ہم نے بہت سے خطرناک افراد کو ملک سے نکال دیا ہے، لیکن کچھ اب بھی باقی ہیں۔ یہ سب کبھی نہیں ہونا چاہیے تھا۔
آج میں "آپریشن ایپک فیوری” کے بارے میں اپڈیٹ دینا چاہتا ہوں۔ پچھلے تین ہفتوں میں ہم نے ایران کی فوجی صلاحیتوں کو بے حد نقصان پہنچایا ہے۔ ہم نے ان کے میزائل، ڈرون، بحریہ اور فضائیہ کو تقریباً ختم کر دیا ہے۔
ہم نے ان کے تقریباً 90 فیصد لانچرز اور بڑی تعداد میں میزائل تباہ کر دیے ہیں۔ ہم ان فیکٹریوں کو بھی تباہ کر رہے ہیں جہاں یہ ہتھیار بنتے ہیں۔
ایران اب معاہدہ کرنے کے لیے بے چین ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ وہ بات نہیں کر رہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ وہ مذاکرات چاہتے ہیں۔ ہم دیکھیں گے کہ کیا مناسب معاہدہ ہو سکتا ہے۔
ہم نے انہیں پہلے بھی موقع دیا تھا، لیکن انہوں نے سنجیدگی نہیں دکھائی۔ ہم کبھی بھی ایسے لوگوں کو ایٹمی ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دے سکتے۔
اگر ہم نے کارروائی نہ کی ہوتی تو وہ جلد ہی ایٹمی ہتھیار حاصل کر لیتے۔ انہوں نے خطے کے کئی ممالک کو نشانہ بنایا، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان کے ارادے خطرناک تھے۔
ہم نے ان کی بحریہ اور فضائیہ کو مکمل طور پر تباہ کر دیا ہے۔ ان کی قیادت بھی ختم ہو چکی ہے اور وہ ایک دوسرے سے رابطہ نہیں کر پا رہے۔
ہم اپنے مشن میں توقع سے زیادہ تیزی سے آگے بڑھ رہے ہیں۔ ایران اب اندرونی طور پر تسلیم کر رہا ہے کہ اسے شکست ہو چکی ہے۔
اگر وہ معاہدہ کرتے ہیں تو یہ ان کے لیے اور پوری دنیا کے لیے بہتر ہوگا، ورنہ ہم کارروائی جاری رکھیں گے۔
ہماری فوج دنیا کی سب سے طاقتور فوج ہے۔ کوئی بھی ہمارا مقابلہ نہیں کر سکتا۔
ہم نے منشیات کی اسمگلنگ کو بھی تقریباً 98 فیصد تک کم کر دیا ہے، خاص طور پر سمندر کے راستے۔
ہم ملکی سطح پر بھی معیشت کو مضبوط بنا رہے ہیں۔ اسٹاک مارکیٹ نے ریکارڈ سطح کو چھوا ہے اور سرمایہ کاری میں اضافہ ہوا ہے۔
ہم کسانوں کی مدد کر رہے ہیں اور انہیں اربوں ڈالر فراہم کیے گئے ہیں۔
ہم جرائم کے خلاف بھی کارروائی کر رہے ہیں۔ مختلف شہروں میں جرائم میں نمایاں کمی آئی ہے جہاں ہم نے اقدامات کیے۔
ہم سرحدوں کو محفوظ بنا چکے ہیں اور اب غیر قانونی داخلے تقریباً ختم ہو چکے ہیں۔
کوئی فرق نہیں پڑتا… یہ بہت شاندار ہونے والا ہے۔ ہم ایک فتحی محراب بنا رہے ہیں، جو اس شہر کے لیے ناقابلِ یقین ہوگی۔
ہم اس عمارت کی بھی مرمت کر رہے ہیں جسے کینیڈی سینٹر کہا جاتا تھا۔ جب بورڈ نے نام میں تھوڑی تبدیلی کی، تو یہ اس بات کی علامت ہے کہ ریپبلکن اور ڈیموکریٹس مل کر کام کر سکتے ہیں۔
یہ عمارت بہت خراب حالت میں تھی… تقریباً گرنے کے قریب۔ ہم اسے بند کر رہے ہیں، اور دو سال سے بھی کم وقت میں اسے شاندار انداز میں دوبارہ کھولیں گے۔ بجٹ سے کم، وقت سے پہلے — یہی میں کرتا ہوں۔
لیکن عجیب بات یہ ہے کہ میں جو بھی کرتا ہوں، مجھ پر مقدمہ ہو جاتا ہے۔
ہم ایک خوبصورت بال روم بنا رہے ہیں، تاکہ وائٹ ہاؤس میں مہمانوں کی بہتر میزبانی ہو سکے… مگر اس پر بھی مقدمہ ہو گیا۔
ہم صرف عمارت کو ٹھیک کر رہے ہیں ، ماربل، چھت، کھڑکیاں… سب کچھ محفوظ اور خوبصورت بنانے کے لیے۔
پہلے ستونوں پر جعلی سنہری رنگ تھا… اب ہم نے انہیں خوبصورت سفید رنگ دیا ہے۔ اصلی چیز کی کوئی نقل نہیں ہو سکتی۔
لیکن پھر بھی… مجھ پر مقدمہ۔
اور دوسری طرف… ایک چھوٹی عمارت پر اربوں ڈالر خرچ ہو رہے ہیں… اور کوئی کچھ نہیں کہتا۔
انہوں نے خوبصورت دیواریں اور چھتیں توڑ دیں… مضبوط ساخت ختم کر دی… اور کمزور چیزیں لگا رہے ہیں۔
کوئی ان پر سوال نہیں کرتا… لیکن مجھے کیا جاتا ہے۔
یہ یا تو بدعنوانی ہے… یا مکمل نااہلی۔
میں وہی کام بہت کم پیسوں میں بہتر طریقے سے کر سکتا تھا۔
میں آپ کو ایک مثال دیتا ہوں…
یہ ایک سادہ قلم ہے… سستا ہے، مگر بہترین لکھتا ہے۔
پہلے ہم ہزار ڈالر کے قلم استعمال کرتے تھے… خوبصورت تھے، مگر کام کے نہیں۔
میں نے کہا یہ فضول خرچی ہے۔
اب ہم سستا اور بہتر قلم استعمال کرتے ہیں… اور لوگوں میں بانٹ بھی سکتے ہیں۔
یہی فرق ہے — سمجھداری اور فضول خرچی میں۔
اسی دوران امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کا کہنا تھا کہ صدر نے بالکل درست خلاصہ پیش کیا ہے۔
ایران کی فوج تقریباً ختم ہو چکی ہے۔ ان کے پاس اب وہ طاقت نہیں رہی جو پہلے تھی۔
اس کا مطلب ہے کہ اب ہمارے پاس ہر قسم کے آپشنز موجود ہیں۔
لیکن اصل مقصد کیا ہے؟
یہ یقینی بنانا کہ ایران کبھی بھی ایٹمی ہتھیار حاصل نہ کرے۔
اگر ایک عام حملہ چند لوگوں کو مارتا ہے… تو ایٹمی حملہ ہزاروں جانیں لے سکتا ہے۔
اسی لیے یہ سب ضروری ہے۔
اور میں تمام امریکی فوجیوں سے کہنا چاہتا ہوں… ہم آپ کے ساتھ ہیں۔
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا کہ کسی بھی صدر کی سب سے اہم ذمہ داری اپنے عوام کو محفوظ رکھنا ہے۔ایران کئی دہائیوں سے امریکہ کے خلاف سرگرم ہے۔
پچھلے صدور نے خطرہ دیکھا… مگر کارروائی نہیں کی۔لیکن اب ہم کارروائی کر رہے ہیں۔ہم ان کی بحریہ، میزائل سسٹم، اور ہتھیار بنانے کی صلاحیت کو ختم کر رہے ہیں۔
ہم عام لوگوں کو نہیں، بلکہ فوجی اہداف کو نشانہ بنا رہے ہیں۔یہ مشن مکمل ہوگا تو دنیا زیادہ محفوظ ہوگی۔
امر یکی ڈیفنس منسٹرپیٹی نے کہا کہ 27 دن پہلے ایران کے پاس ایک مضبوط فوج تھی…آج… وہ تقریباً ختم ہو چکی ہے۔یہ کوئی لمبی جنگ نہیں… بلکہ ایک واضح اور فیصلہ کن مشن ہے۔
ہزاروں اہداف تباہ ہو چکے ہیں… ان کی بحریہ ختم… قیادت ختم۔یہ کامیابی ہے۔اگر ہم کچھ نہ کرتے تو تنقید ہوتی… اور اب کر رہے ہیں تو بھی تنقید ہو رہی ہے۔لیکن حقیقت یہ ہے — ہم جیت رہے ہیں۔
سکاٹ بیسنٹ کا کہنا تھا کہ جناب صدر، آپ کی معاشی قیادت نے اس مشن کو ممکن بنایا۔قومی سلامتی دراصل معاشی سلامتی ہے۔ہم نے ایران کے مالی نظام کو کمزور کیا… ان کی فنڈنگ بند کی۔
یہ سب ایک دن میں نہیں ہوا… مہینوں کی تیاری تھی۔ان کی معیشت گر چکی ہے… ان کی طاقت کم ہو چکی ہے۔تیل کی مارکیٹ مستحکم ہے… سپلائی برقرار ہے۔امریکی معیشت مضبوط ہے… دنیا میں سب سے بہتر۔لوگوں کی آمدنی بڑھ رہی ہے… ٹیکس ریفنڈز بڑھ رہے ہیں۔امریکی ڈالر مضبوط ہو رہا ہے۔
اور ہم پہلے سے زیادہ محفوظ ہو رہے ہیں۔












