لاہور(پاک ترک نیوز)طبیعیات کے شعبے میں تین سائنس دانوں نے مقناطیسیت کی ایک نئی قسم دریافت کرنے پر یورپ کا معتبر سائنسی اعزاز یورو فزکس انعام 2026 حاصل کر لیا ہے۔ اس دریافت کو متبادل مقناطیسیت کہا جاتا ہے، جس نے مقناطیسی مادوں کی درجہ بندی سے متعلق ایک صدی سے زیادہ عرصے سے قائم سائنسی تصور میں نئی جہت متعارف کرائی ہے۔
یہ اعزاز جرمنی کی جامعہ مینز کے پروفیسر جائرو سینووا، سائنس دان ڈاکٹر لیبور شمیئکل اور پروفیسر توماس یونگ ورتھ کو دیا گیا ہے۔ یورپی فزیکل سوسائٹی کے شعبہ طبیعیاتِ مادہ نے ان سائنس دانوں کی تحقیق کو سراہا، جس کے ذریعے مقناطیسیت کی ایک نئی بنیادی قسم کی نظریاتی وضاحت اور تجرباتی تصدیق میں اہم پیش رفت ہوئی۔
پروفیسر جائرو سینووا کے مطابق یہ اعزاز ایسی بنیادی سائنسی دریافت کا اعتراف ہے جس نے طبیعیات کے ایک مضبوط اور دیرینہ تصور کو چیلنج کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایک صدی سے زیادہ عرصے تک کسی نئی مقناطیسی حالت کا پوشیدہ رہنا اس بات کا ثبوت ہے کہ سائنس کے ترقی یافتہ شعبوں میں بھی اہم دریافتوں کی گنجائش موجود ہے۔
اب تک طبیعیات میں مقناطیسی مادوں کی دو بنیادی اقسام، یعنی فرومقناطیسیت اور ضدِ مقناطیسیت، معروف تھیں۔
فرومقناطیسی مادوں میں مقناطیسی اثرات ایک ہی سمت میں منظم ہونے کے باعث مجموعی مقناطیسی قوت پیدا ہوتی ہے۔ اسی خاصیت کی بدولت ایسے مادے مقناطیسی یادداشت اور ڈیٹا محفوظ کرنے والی متعدد ٹیکنالوجیز میں استعمال ہوتے ہیں۔
اس کے برعکس ضدِ مقناطیسی مادوں میں الیکٹرانوں کے مقناطیسی اثرات ایک دوسرے کو زائل کر دیتے ہیں، جس کے نتیجے میں مجموعی مقناطیسی قوت پیدا نہیں ہوتی۔
نئی دریافت شدہ متبادل مقناطیسیت میں بھی مقناطیسی اثرات ایک دوسرے کو زائل کر دیتے ہیں، تاہم ان مادوں کے الیکٹران ایسی خصوصیات ظاہر کر سکتے ہیں جو پہلے فرومقناطیسی مادوں سے وابستہ سمجھی جاتی تھیں۔
سائنس دانوں کے مطابق یہی منفرد امتزاج مستقبل میں الیکٹرانکس، معلومات کی ترسیل اور جدید کمپیوٹر نظاموں کی کارکردگی بہتر بنانے میں مدد دے سکتا ہے۔
اس تحقیق کا آغاز مقناطیسی مادوں میں بجلی کی ترسیل کے غیر معمولی رویوں کے مطالعے سے ہوا۔ سائنس دانوں نے الیکٹرانوں کے گھماؤ اور مادوں کی بلوری ساخت میں موجود مخصوص ہم آہنگی کا جائزہ لیا، جس سے مقناطیسی رویے کی ایک الگ قسم کی نشاندہی ہوئی۔
سنہ 2022 میں محققین کی ٹیم نے متبادل مقناطیسیت کی جامع نظریاتی درجہ بندی پیش کی اور ایسے سیکڑوں مادوں کی نشاندہی کی جن میں یہ خاصیت موجود ہو سکتی تھی۔
یہ بھی پڑھیں:چین کے طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائل پی ایل 17 سے مغربی فضائی نگرانی کو خطرات
بعد ازاں دنیا کے مختلف تحقیقی مراکز میں تجربات کے ذریعے ان پیش گوئیوں کو جانچا گیا۔ سائنس دانوں نے مادوں کے اندر الیکٹرانوں کے رویے اور برقی ترسیل کی پیمائش سمیت مختلف طریقے استعمال کیے۔ ان تجربات سے متعدد مادوں میں متبادل مقناطیسیت کے شواہد ملے، جس سے اس نئی درجہ بندی کو تقویت ملی۔
ماہرین کے مطابق متبادل مقناطیسیت کی خصوصیات تیز رفتار اور کم توانائی استعمال کرنے والے الیکٹرانک آلات کی تیاری میں اہم کردار ادا کر سکتی ہیں۔ ان مادوں میں الیکٹرانوں کے گھماؤ سے متعلق معلومات کو استعمال کرتے ہوئے مستقبل کے کمپیوٹرز اور ڈیٹا محفوظ کرنے کے نظاموں کی رفتار اور صلاحیت بڑھانے کے امکانات پر تحقیق جاری ہے۔






