بیجنگ(پاک ترک نیوز)چین کے جدید فضائی میزائل پی ایل 17 نے مغربی فضائی افواج کی حکمت عملی اور یورپ کے مستقبل کے فضائی دفاعی منصوبوں پر نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ دفاعی ماہرین کے مطابق یہ میزائل طویل فاصلے پر موجود فضائی نگرانی کرنے والے طیاروں، فضائی ایندھن بردار جہازوں اور فضائی کمان کے نظام کے لیے ممکنہ خطرہ بن سکتا ہے۔
دفاعی تجزیے کے مطابق پی ایل 17 کی ممکنہ مار کو 300 سے 500 کلومیٹر کے درمیان بتایا جاتا ہے، تاہم یہ اندازے ہیں اور اس فاصلے پر ہر قسم کے ہدف کو کامیابی سے نشانہ بنانے کی صلاحیت کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہوئی۔
اس میزائل کی اہمیت صرف لڑاکا طیاروں کو نشانہ بنانے تک محدود نہیں، بلکہ اس کا ممکنہ استعمال ان معاون طیاروں کے خلاف بھی ہو سکتا ہے جو فضائی کارروائیوں کے دوران نگرانی، رابطوں اور ایندھن کی فراہمی میں بنیادی کردار ادا کرتے ہیں۔
پی ایل 17 کو چین کے جدید لڑاکا طیارے جے 16 کے ساتھ منسلک ایک طویل فاصلے تک مار کرنے والا فضائی میزائل قرار دیا جاتا ہے۔ اس کی لمبائی تقریباً 5.8 سے 6 میٹر بتائی جاتی ہے، جس کے باعث اسے طیاروں میں نصب کرنے کے لیے مخصوص جگہ اور انتظامات درکار ہوتے ہیں۔
دفاعی تجزیے کے مطابق اس میزائل کی ممکنہ صلاحیت مغربی افواج کو اپنے فضائی نگرانی کے طیاروں اور ایندھن فراہم کرنے والے جہازوں کو خطرے سے دور رکھنے پر مجبور کر سکتی ہے۔ اگر ان طیاروں کو پیچھے ہٹنا پڑے تو لڑاکا طیاروں کی پرواز کا دورانیہ، نگرانی کا دائرہ اور فضائی کارروائیوں میں رابطہ کاری متاثر ہو سکتی ہے۔
تاہم میزائل کی زیادہ سے زیادہ ممکنہ مار کو اس کی یقینی جنگی کارکردگی نہیں سمجھا جا سکتا، کیونکہ اصل نتائج کا انحصار ہدف کی نقل و حرکت، میزائل چھوڑنے کی بلندی، برقی مداخلت اور دیگر عملی حالات پر ہوتا ہے۔
پی ایل 17 کے ساتھ چین کا پی ایل 15 میزائل بھی فضائی طاقت کے توازن میں اہمیت رکھتا ہے۔ پی ایل 15 چین کے جے 20، جے 16 اور جے 10 سی جیسے لڑاکا طیاروں کے لیے طویل فاصلے تک مار کرنے والے فضائی ہتھیاروں میں شامل ہے۔
دونوں میزائلوں کی کارکردگی کا موازنہ کرتے ہوئے ان کے مختلف مقاصد کو مدنظر رکھنا ضروری ہے۔ پی ایل 17 کو خاص طور پر طویل فاصلے پر موجود بڑے فضائی اہداف کے لیے اہم سمجھا جاتا ہے، جبکہ پی ایل 15 لڑاکا طیاروں کے درمیان فضائی لڑائی میں زیادہ وسیع کردار ادا کرتا ہے۔
چین کے طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائلوں کے تناظر میں یورپ کے میٹیور فضائی میزائل اور اس کے مستقبل کے متبادل پر بھی توجہ بڑھ رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:ایئربس کے پہلے ہائیڈروجن طیارے میں 80 مسافروں کی گنجائش متوقع
فراہم کردہ رپورٹ کے مطابق برطانیہ نے میٹیور میزائل کی درمیانی مدت کی بہتری کے منصوبے کو آگے نہ بڑھانے کا فیصلہ کیا ہے۔ برطانوی وزیر لیوک پولارڈ کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ میٹیور میزائل کی درمیانی مدت کی بہتری کا منصوبہ جاری نہیں رکھا جا رہا، جبکہ مستقبل کے فضائی ہتھیاروں کی تیاری پر توجہ دی جا رہی ہے۔
میٹیور میزائل کی نمایاں خصوصیت اس کا ایسا محرک نظام ہے جو پرواز کے دوران توانائی برقرار رکھنے میں مدد دیتا ہے۔ اس سے لڑاکا طیارے کے خلاف طویل فاصلے پر حملے کے دوران میزائل کی رفتار اور ہدف کا تعاقب کرنے کی صلاحیت بہتر ہو سکتی ہے۔












