نیویارک(پاک ترک نیوز )دماغی خلیوں کو روشنی کی مدد سے فعال اور غیر فعال کرنے کی ٹیکنالوجی پر تحقیق کرنے والے تین سائنس دانوں نے 2026 کا نوبیل انعام برائے فعلیات و طب جیت لیا ہے۔ ان سائنس دانوں میں کارل ڈیسرورتھ، پیٹر ہیگمین اور جارج ناگل شامل ہیں۔ انہیں روشنی سے متحرک ہونے والے آئن چینلز اور آپٹوجینیٹکس کے شعبے میں اہم تحقیق پر اعزاز دیا گیا ہے۔
اس تحقیق نے سائنس دانوں کے لیے دماغ اور اعصابی نظام کے کام کرنے کے طریقے سمجھنے کے نئے راستے کھولے ہیں۔ آپٹوجینیٹکس ایک ایسی تکنیک ہے جس کے ذریعے روشنی کی مدد سے مخصوص اعصابی خلیوں کی سرگرمی کو کنٹرول کیا جا سکتا ہے۔
تحقیق کا آغاز ایک ننھے، یک خلوی کائی نما جاندار سے ہوا، جسے کلیمیڈوموناس کہا جاتا ہے۔ پیٹر ہیگمین اور جارج ناگل یہ جاننا چاہتے تھے کہ یہ جاندار روشنی کو کیسے محسوس کرتا ہے اور اس کے ردعمل میں اپنی حرکت کیسے تبدیل کرتا ہے۔ تحقیق کے دوران انہیں ایک خاص پروٹین، چینل روڈوپسن، کی اہمیت معلوم ہوئی، جو روشنی پڑنے پر خلیے کی جھلی میں ایک راستہ کھولتا ہے اور برقی چارج رکھنے والے ذرات کو گزرنے دیتا ہے۔
سائنس دانوں نے اس دریافت کو اعصابی خلیوں پر لاگو کیا۔ ان کا خیال تھا کہ اگر یہ پروٹین دماغی خلیوں میں متعارف کرا دیا جائے تو روشنی کے ذریعے ان خلیوں کو فعال کیا جا سکتا ہے۔ بعد میں کارل ڈیسرورتھ سمیت محققین نے اس تصور کو عملی شکل دی۔
اس تکنیک میں مخصوص اعصابی خلیوں میں روشنی کے لیے حساس پروٹین پیدا کروایا جاتا ہے۔ اس کے بعد باریک آپٹیکل فائبر کے ذریعے روشنی دماغ کے مخصوص حصے تک پہنچائی جاتی ہے۔ اس طرح سائنس دان انتہائی تیزی سے مخصوص خلیوں کو فعال کر سکتے ہیں اور مشاہدہ کر سکتے ہیں کہ ان کی سرگرمی سے یادداشت، نیند، احساسات یا حرکت پر کیا اثر پڑتا ہے۔
2012 میں میساچوسٹس انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی کی ایک تحقیق میں چوہوں کی یادداشت سے متعلق تجربہ کیا گیا۔ چوہوں کو ایک مخصوص ماحول میں ہلکا برقی جھٹکا دیا گیا اور اس دوران فعال ہونے والے دماغی خلیوں کی شناخت کی گئی۔ کچھ دن بعد دوسرے ماحول میں روشنی کی مدد سے انہی خلیوں کو دوبارہ فعال کیا گیا تو چوہے خوف کے باعث ساکت ہو گئے، جیسے انہیں پہلے پیش آنے والا واقعہ یاد آ گیا ہو۔ اس تجربے نے مخصوص یادداشت سے متعلق اعصابی سرگرمی کے مطالعے میں اہم پیش رفت کی۔
ماہرین اب اس ٹیکنالوجی کے طبی استعمال پر بھی تحقیق کر رہے ہیں۔ ریٹینا کی خرابی کے باعث بینائی کھونے والے افراد کے لیے ابتدائی طبی آزمائشوں میں روشنی کے لیے حساس پروٹین استعمال کرنے کے امکانات کا جائزہ لیا جا رہا ہے، تاکہ ریٹینا میں باقی رہ جانے والے خلیے دوبارہ روشنی کا ردعمل دے سکیں اور کچھ حد تک بینائی بحال کرنے میں مدد ملے۔
اس کے علاوہ پارکنسنز اور مرگی جیسی اعصابی بیماریوں کے علاج میں بھی آپٹوجینیٹکس کے ممکنہ استعمال پر تحقیق جاری ہے۔ تاہم، یہ طریقے ابھی تحقیق اور ابتدائی طبی آزمائشوں کے مراحل میں ہیں اور انہیں ان بیماریوں کا ثابت شدہ علاج قرار نہیں دیا جا سکتا۔








