لاہور(پاک ترک نیوز)پاکستانی فلمی موسیقی کی نامور گلوکارہ زبیدہ خانم کو دنیا سے رخصت ہوئے 13 برس بیت گئے، لیکن ان کی سریلی آواز اور یادگار گیت آج بھی موسیقی کے شائقین کے دلوں میں زندہ ہیں۔ 1950 اور 1960 کی دہائی میں اپنی منفرد آواز کا جادو جگانے والی زبیدہ خانم نے پاکستانی فلمی صنعت کو ایسے لازوال گیت دیے جو آج بھی سننے والوں کو اپنے سحر میں مبتلا کر دیتے ہیں۔
زبیدہ خانم کا شمار پاکستان کی ان گلوکاراؤں میں ہوتا ہے جنہوں نے ابتدائی دور کی فلمی موسیقی کو اپنی آواز سے ایک نئی پہچان دی۔ ان کی آواز میں مٹھاس، سادگی، جذبات کی گہرائی اور ادائیگی کا منفرد انداز نمایاں تھا، جس نے انہیں اپنے دور کی مقبول ترین گلوکاراؤں میں شامل کر دیا۔
انہوں نے اپنے فنی سفر کے دوران ڈھائی سو سے زائد گیت ریکارڈ کرائے اور متعدد فلموں کے لیے اپنی آواز کا نذرانہ پیش کیا۔ ان کے گیتوں میں محبت، جدائی، خوشی، اداسی اور انسانی جذبات کی مختلف کیفیات اس خوب صورتی سے سمٹ آئیں کہ وہ فلمی موسیقی کے سنہری دور کی پہچان بن گئے۔
زبیدہ خانم نے پنجابی اور اردو فلموں کے لیے گیت گائے اور اپنی منفرد گائیکی سے شائقین کے دل جیتے۔ ان کی آواز نے فلمی کرداروں کے جذبات کو مؤثر انداز میں پیش کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ وہ اپنے دور کے موسیقاروں اور فلم سازوں کے لیے ایک قابلِ اعتماد آواز سمجھی جاتی تھیں۔
پاکستانی فلمی موسیقی کے سنہری دور میں زبیدہ خانم کی مقبولیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ ان کے گیت وقت گزرنے کے باوجود اپنی کشش برقرار رکھے ہوئے ہیں۔ ان کی آواز میں موجود فطری پن اور جذباتی تاثیر انہیں اپنے ہم عصر گلوکاروں سے ممتاز کرتی تھی۔
یہ بھی پڑھیں: دہشت گردی کے خاتمے اور امن کے قیام کے لیے قومی عزم غیر متزلزل ہے،بلاول بھٹو
زبیدہ خانم نے زندگی کے آخری برسوں میں فلمی دنیا سے کنارہ کشی اختیار کر لی تھی، تاہم ان کے مداح انہیں ان کے گیتوں کے ذریعے یاد کرتے رہے۔ 19 اکتوبر 2013 کو وہ اس دنیا سے رخصت ہوئیں اور اپنے پیچھے موسیقی کا ایک قیمتی ورثہ چھوڑ گئیں۔






