اسلام آباد ( پاک ترک نیوز) اقوام متحدہ کے عالمی موسمیاتی ادارے نے خبردار کیا ہے کہ رواں سال کا ال نینو موسمیاتی رجحان مزید شدت اختیار کرے گا اور دسمبر میں اپنے عروج پر پہنچ سکتا ہے۔ ادارے کے مطابق اس بات کا تقریباً 100 فیصد امکان ہے کہ ال نینو فروری 2027 تک برقرار رہے، جبکہ یہ 1950 کے بعد آنے والے طاقتور ترین ال نینو واقعات میں سے ایک ہو سکتا ہے۔عالمی موسمیاتی ادارے کی آٹھ اکتوبر کو جاری ہونے والی ماہانہ رپورٹ کے مطابق بحرالکاہل کے وسطی اور مشرقی استوائی حصوں میں سمندر کی سطح کا درجہ حرارت اکتوبر سے دسمبر کے دوران معمول سے 3 اعشاریہ 7 ڈگری سینٹی گریڈ زیادہ ہو سکتا ہے۔ اگر یہ پیش گوئی درست ثابت ہوئی تو درجہ حرارت میں یہ اضافہ سابقہ ریکارڈ سے کہیں زیادہ ہوگا۔
اس سے پہلے نومبر 2015 سے جنوری 2016 کے دوران سمندر کی سطح کا درجہ حرارت معمول سے 2 اعشاریہ 6 ڈگری سینٹی گریڈ زیادہ ریکارڈ کیا گیا تھا۔عالمی موسمیاتی ادارے کی سربراہ سیلیسٹے ساؤلو کے مطابق سمندر میں موجود حرارت کی مقدار غیر معمولی طور پر زیادہ ہے، جس سے فضا میں مزید حرارت منتقل ہونے کا امکان ہے۔ال نینو بحرالکاہل کے استوائی حصے میں سمندر کی سطح کے درجہ حرارت میں غیر معمولی اضافے سے پیدا ہونے والا قدرتی موسمیاتی رجحان ہے۔ یہ دنیا کے مختلف خطوں میں درجہ حرارت، بارشوں اور ہواؤں کے معمولات کو متاثر کرتا ہے۔ اس کے نتیجے میں بعض علاقوں میں شدید خشک سالی پیدا ہو سکتی ہے، جبکہ دوسرے خطوں میں غیر معمولی بارشوں اور سیلاب کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔یہ رجحان عموماً ہر دو سے سات سال کے دوران سامنے آتا ہے، تاہم اس کی شدت اور دورانیہ ہر مرتبہ مختلف ہو سکتا ہے۔
یورپی موسمیاتی ادارے کے مطابق اگست 2026 میں عالمی اوسط درجہ حرارت 16 اعشاریہ 96 ڈگری سینٹی گریڈ رہا، جو جولائی 2023 کے ریکارڈ کے برابر تھا اور اسے ریکارڈ کے گرم ترین مہینوں میں شمار کیا گیا۔دوسری جانب شکاگو یونیورسٹی کی موسمیاتی اثرات کی تجربہ گاہ کے محققین نے گزشتہ ماہ پیش گوئی کی تھی کہ رواں سال کا انتہائی طاقتور ال نینو جون 2026 سے فروری 2027 کے دوران دنیا بھر میں معمول سے زیادہ اموات کا سبب بن سکتا ہے۔ ان کے اندازے کے مطابق اضافی اموات کی تعداد 4 لاکھ 51 ہزار تک پہنچ سکتی ہے۔









