اسلام آباد ( پاک ترک نیوز) وزیراعظم شہباز شریف نے اہم اجلاس کے بعد جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان سے ٹیلیفونک رابطہ کیا ہے، جس میں ملک کی مجموعی سیاسی صورتحال اور خیبرپختونخوا میں جاری کشیدگی، خصوصاً پاکستان تحریک انصاف کے لانگ مارچ پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ذرائع کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف نے مولانا فضل الرحمان سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وفاقی حکومت نے معاملات کو سیاسی انداز میں حل کرنے کی ہر ممکن کوشش کی ہے۔ انہوں نے مولانا فضل الرحمان کی سیاسی خدمات اور مفاہمت کے لیے ان کے کردار کو بھی سراہا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیراعظم کی جانب سے مؤقف اختیار کیا گیا کہ پی ٹی آئی کے لانگ مارچ پر اصرار اور دہشت گردی کے خلاف اقدامات کے حوالے سے اختلافات کے باعث مسائل پیدا ہوئے ہیں۔ وزیراعظم نے پیغام دیا کہ اب بھی وقت ہے کہ خیبرپختونخوا حکومت اور اپوزیشن معاملات کے حل کے لیے سنجیدگی کا مظاہرہ کریں۔دوسری جانب مولانا فضل الرحمان نے ایک بار پھر اس مؤقف کا اعادہ کیا کہ معاملات کو افہام و تفہیم اور سیاسی مذاکرات کے ذریعے حل کیا جانا چاہیے۔ذرائع کے مطابق وزیراعظم نے کہا کہ حکومت اب بھی مذاکرات اور سیاسی حل کے لیے تیار ہے، تاہم اپوزیشن کو وفاق پر چڑھائی سے گریز کرنا ہوگا۔ ان کے مطابق لانگ مارچ کے ذریعے دباؤ ڈالنے یا بلیک میلنگ سے مسائل حل ہونے کے بجائے مزید پیچیدگیاں پیدا ہو سکتی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: سعودی عرب کے فضائی اڈوں پر حوثی حملے، عالمی پروازیں متاثر، عرب لیگ، او آئی سی اور اقوام متحدہ کی مذمت
وزیراعظم نے ملک میں سیاسی استحکام کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ وفاقی حکومت نے ملکی معیشت کی بہتری کے لیے بھرپور کوششیں کی ہیں اور سیاسی استحکام کے ذریعے ہی دیگر معاملات پر پیش رفت ممکن ہے۔ذرائع کے مطابق وزیراعظم نے مولانا فضل الرحمان کو یہ پیغام بھی دیا کہ اگر اپوزیشن سنجیدگی کا مظاہرہ کرے تو کئی معاملات پر آگے بڑھا جا سکتا ہے۔












