سیئول(پاک ترک نیوز )جنوبی کوریا نے ڈرونز کے خلاف جدید لیزر دفاعی نظام کا کامیاب مظاہرہ کیا ہے، جہاں 30 کلوواٹ طاقت کے لیزر ہتھیار نے فوجی مشق کے دوران تینوں ہدفی ڈرونز کو نشانہ بنا کر ناکارہ بنا دیا۔
جنوبی کوریا کی دفاعی کمپنی ہنوا سسٹمز کے مطابق یہ مظاہرہ 14 اکتوبر کو جنوبی کوریا کی فوج کی مستقبل کی جنگی صلاحیتوں سے متعلق مشق میں کیا گیا۔ اس موقع پر فوجی حکام، جامعات اور دفاعی صنعت سے تعلق رکھنے والے تقریباً 500 نمائندے موجود تھے۔
مشق کے دوران کمپنی کے چیونگ وانگ لیزر دفاعی نظام اور گاڑی پر نصب 30 کلوواٹ طاقت کے لیزر ہتھیار نے اپنے اہداف کو کامیابی سے نشانہ بنایا۔
چیونگ وانگ، جسے لیزر فضائی دفاعی ہتھیار بلاک ون بھی کہا جاتا ہے، ہنوا سسٹمز اور جنوبی کوریا کی ایجنسی برائے دفاعی ترقی نے تیار کیا ہے۔ یہ نظام دسمبر 2024 میں عملی طور پر دفاعی استعمال میں شامل کیا گیا تھا۔
روایتی میزائل داغنے کے بجائے یہ نظام انتہائی طاقتور لیزر شعاع کے ذریعے ڈرون کے اہم حصوں، مثلاً بیٹری، کو نقصان پہنچا کر اسے ناکارہ بناتا ہے۔
کمپنی کے مطابق اس نظام کے ذریعے ایک ہدف کو نشانہ بنانے پر تقریباً 2 ہزار جنوبی کوریائی وون، یعنی لگ بھگ ڈیڑھ امریکی ڈالر خرچ ہوتے ہیں۔ اس طرح کم قیمت ڈرونز کے خلاف مہنگے میزائل استعمال کرنے کی ضرورت کم ہوسکتی ہے۔
تاہم لیزر ہتھیاروں کو مسلسل بجلی، حرارت پر قابو پانے کے مؤثر نظام اور موزوں موسمی حالات کی ضرورت ہوتی ہے۔
ہنوا سسٹمز اس کے علاوہ 50 کلوواٹ طاقت کا لیزر ہتھیار بھی تیار کر رہی ہے، جسے بکتر بند فوجی گاڑی پر نصب کیا جائے گا۔ اس منصوبے کا مقصد زیادہ طاقت اور بہتر نقل و حرکت کے ذریعے میدان جنگ میں ڈرونز کے خطرے کا مقابلہ کرنا ہے۔
کمپنی نے اس نظام کو ستمبر میں پولینڈ میں ہونے والی دفاعی نمائش سمیت دیگر مواقع پر پیش کیا تھا۔ اطلاعات کے مطابق اس کی بڑے پیمانے پر تیاری 2027 کے اختتام تک شروع کرنے کا ہدف رکھا گیا ہے، تاہم یہ ابھی ایک مجوزہ ہدف ہے اور اس کی تکمیل کی حتمی تصدیق نہیں ہوئی۔
جنوبی کوریا اپنی لیزر دفاعی ٹیکنالوجی کو یورپ، ایشیا اور مشرق وسطیٰ کی دفاعی منڈیوں میں متعارف کرانے کی کوشش کر رہا ہے۔ کمپنی کے مطابق ممکنہ خریداروں سے بات چیت جاری ہے، تاہم 50 کلوواٹ والے نظام کے لیے کسی حتمی برآمدی معاہدے کا اعلان نہیں کیا گیا۔












