پشاور(پاک ترک نیوز) گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے دیر کالونی میں اسکول کی چھت گرنے کے افسوسناک واقعے کے بعد نجی اسکولوں کے لیے مؤثر قانون سازی کرنے اور پندرہ دن کے اندر رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کردی۔گورنر ہاؤس پشاور میں فیصل کریم کنڈی کی زیرِ صدارت اجلاس ہوا، جس میں مشیرِ تعلیم عامر عبداللہ، کمشنر پشاور کیپٹن ریٹائرڈ خالد محمود، ڈپٹی کمشنر آفاق وزیر اور محکمہ تعلیم کے متعلقہ افسران نے شرکت کی۔اجلاس میں کمشنر پشاور نے گورنر کو واقعے اور اس سے متعلق انتظامی امور پر بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ اسکول کے مالک نے سولہ مرلے اراضی دس سال کے لیے لیز پر حاصل کرکے عمارت تعمیر کی تھی۔ متعلقہ اسکول سال دو ہزار چھبیس میں رجسٹرڈ ہوا، تاہم انتظامیہ نے مقررہ حفاظتی ضابطوں پر عمل درآمد نہیں کیا۔
گورنر فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ اسکول کی چھت گرنے کا واقعہ انتہائی افسوسناک سانحہ ہے۔ بغیر منظور شدہ نقشوں کے تعمیر ہونے والی عمارتوں کی نشاندہی اور ان کی جانچ پڑتال ضروری ہے۔ بلدیاتی ادارے بھی شہر میں عمارتوں کی جانچ پڑتال کے لیے مؤثر اقدامات کریں۔
انہوں نے ہدایت کی کہ نجی اسکولوں کی رجسٹریشن، عمارتوں کی تعمیر اور حفاظتی انتظامات سے متعلق قواعد و ضوابط پر سختی سے عمل درآمد یقینی بنایا جائے۔ جن نجی اسکولوں کے پاس رجسٹریشن سرٹیفکیٹ موجود نہیں، ان کے خلاف کارروائی اور سزاؤں کے تعین کے لیے اقدامات کیے جائیں۔گورنر خیبرپختونخوا نے واضح کیا کہ اسکول کی چھت گرنے کے واقعے کے ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔ تمام متعلقہ ادارے اپنی ذمہ داریاں مؤثر انداز میں ادا کریں اور نجی تعلیمی اداروں کے انتظامی معاملات میں شفافیت، نگرانی اور بہترین طریقۂ کار کو یقینی بنائیں۔
یہ بھی پڑھیں:نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کی زیر صدارت اجلاس ،شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس کی تیاریوں کا جائزہ
فیصل کریم کنڈی نے نجی اسکولوں میں حفاظتی معیارات پر عمل درآمد یقینی بنانے کے لیے نئی قانون سازی کرنے اور پندرہ دن کے اندر رپورٹ پیش کرنے کی بھی ہدایت کردی۔












