کراچی ( پاک ترک نیوز) وزیر اطلاعات سندھ شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ خیبرپختونخوا میں کسی لالچ کے تحت گورنر راج نافذ نہیں کیا گیا، پی ٹی آئی کی حکومت کو کئی بار اپنا طرز عمل درست کرنے کا کہا گیا، لیکن وہ تیار نہیں تھی۔کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے شرجیل انعام میمن نے کہا کہ دہشت گردی کا ہونا الگ بات ہے اور دہشت گردوں کے لیے نرم گوشہ رکھنا الگ معاملہ ہے۔ خیبرپختونخوا حکومت کو دہشت گردوں کے خلاف لڑنا چاہیے تھا، لیکن تحریک انصاف نے دہشت گردوں سے مذاکرات کی بات کی۔ ان کا دعویٰ تھا کہ پی ٹی آئی کی پہلی حکومت دہشت گردوں کو مالی معاونت فراہم کرتی تھی۔
شرجیل انعام میمن نے کہا کہ پیپلز پارٹی بلوچستان لبریشن آرمی کے لیے کوئی نرم گوشہ نہیں رکھتی۔ کراچی میں دہشت گردی پر رینجرز کے ذریعے قابو پایا گیا، جبکہ سندھ حکومت نے ڈاکوؤں کے خلاف بھی کارروائیاں کیں۔ ان کے بقول آج سندھ میں اغوا کا کوئی مقدمہ نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کے وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی جلسوں میں دہشت گردوں کی حمایت کرتے رہے، جبکہ وہ کسی بات کو ماننے کے لیے تیار نہیں تھے۔ شرجیل میمن نے دعویٰ کیا کہ سہیل آفریدی دہشت گردوں کے معاملے پر سمجھوتہ کر چکے تھے اور دہشت گردوں کی حمایت کرنے والی جماعت کو اقتدار میں رہنے کا حق نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی اپنے فیصلوں کے نتائج بھگت رہی ہے اور خیبرپختونخوا میں حالات بہتر ہونے کے بعد جو بھی حکومت کرنا چاہے، کر سکتا ہے۔وزیر اطلاعات سندھ نے کہا کہ پیپلز پارٹی کو اقتدار کا شوق نہیں، وفاقی وزارتیں بھی پیش کی جا رہی ہیں، لیکن پارٹی اقتدار کے لیے سمجھوتے نہیں کرتی۔ انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی نے جمہوریت کے لیے مسلم لیگ (ن) کی حمایت کی۔ ماضی میں پیپلز پارٹی نے اپنے دور اقتدار میں اپنی ہی حکومت کے خلاف ہنگامی حالت نافذ کی تھی۔مولانا فضل الرحمان کے بیان پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے شرجیل انعام میمن نے کہا کہ انہیں دہشت گردی کے خلاف بات کرنی چاہیے۔دوسری جانب کراچی میں سفری سہولیات سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے شرجیل انعام میمن نے کہا کہ آپریشنز کمانڈ اینڈ کنٹرول مرکز میں شہر کی تمام تیز رفتار بس سروسز کی نگرانی کرنے جا رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: پنجاب میں 1995 ارب روپے کی سرمایہ کاری اور ایک لاکھ 62 ہزار ملازمتوں کا منصوبہ منظور
انہوں نے بتایا کہ گرین لائن بس سروس کے مسافروں کی تعداد میں 85 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ پہلے روزانہ تقریباً 50 ہزار افراد سفر کرتے تھے، جبکہ اب یہ تعداد 80 سے 90 ہزار تک پہنچ گئی ہے۔ اسی طرح اورنج لائن کے مسافروں کی تعداد بھی روزانہ 3 ہزار سے بڑھ کر 12 ہزار ہو چکی ہے۔شرجیل انعام میمن کے مطابق سندھ میں 50 دو منزلہ بسیں اور 500 برقی بسیں بھی لائی جا رہی ہیں۔ حکومت سندھ عوام کو بہترین سفری سہولیات فراہم کرنے کے لیے اقدامات کر رہی ہے۔ حیدرآباد، میرپورخاص، سکھر، لاڑکانہ اور قمبر شہدادکوٹ سمیت مختلف اضلاع میں بھی سفری راستے شروع کیے گئے ہیں۔












