اسلام آباد(پاک ترک نیوز)وزیراعظم شہباز شریف نے ذیابیطس کی روک تھام کے لیے جامع اور مؤثر قومی حکمتِ عملی مرتب کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ بیماری کے علاج کے ساتھ اس سے بچاؤ پر خصوصی توجہ دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
وزیراعظم محمد شہباز شریف سے بین الاقوامی اور قومی طبی ماہرین کے وفد نے ملاقات کی، جس میں ذیابیطس کی روک تھام، بروقت تشخیص، عوامی آگاہی اور صحت مند طرزِ زندگی کے فروغ سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
وزیراعظم نے کہا کہ نوجوانوں، بالخصوص کالجوں اور جامعات کے طلبہ میں صحت مند طرزِ زندگی کو فروغ دینے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔ متوازن غذا، باقاعدہ جسمانی سرگرمی اور صحت مند معمولات اپنانے کے حوالے سے عوامی آگاہی کو قومی سطح پر فروغ دینا ضروری ہے۔
شہباز شریف نے ہدایت کی کہ ٹیلی ویژن، ریڈیو، ڈیجیٹل ذرائع اور دیگر ابلاغی وسائل کے ذریعے ذیابیطس سے بچاؤ، بروقت تشخیص اور صحت مند طرزِ زندگی سے متعلق معلومات عام کی جائیں۔
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ذیابیطس کی روک تھام کے لیے قومی ترجیحات کے مطابق واضح پالیسی اور قابلِ عمل منصوبہ بندی ناگزیر ہے۔ متعلقہ ادارے تحقیق، آگاہی اور احتیاطی تدابیر کے حوالے سے مربوط حکمتِ عملی مرتب کریں۔
انہوں نے کہا کہ ذیابیطس کے بڑھتے ہوئے چیلنج سے مؤثر انداز میں نمٹنے کے لیے علاقائی اور بین الاقوامی تعاون کو فروغ دینا ہوگا۔ بین الاقوامی تجربات، تحقیق اور مؤثر عملی طریقوں سے استفادہ کرکے پاکستان میں بیماری کی روک تھام کے اقدامات کو مزید بہتر بنایا جا سکتا ہے
یہ بھی پڑھیں :ایران کے سامنے امریکا کو گھٹنے ٹیکنے پڑیں گے، باقر قالیباف کا مارکو روبیو کو دوٹوک جواب
ملاقات میں شریک طبی ماہرین نے ذیابیطس اور دیگر امراض کی روک تھام کے لیے پاکستان کے اقدامات اور پالیسیوں پر عمل درآمد کو سراہا۔ وفد کے شرکاء نے ملک میں ذیابیطس سے بچاؤ اور عوامی آگاہی مہم میں تعاون کے عزم کا اظہار بھی کیا۔
طبی ماہرین نے کہا کہ پاکستانی معالجین دنیا بھر میں ذیابیطس اور دیگر امراض کے علاج اور روک تھام کے لیے اہم خدمات انجام دے رہے ہیں۔
وفد پاکستان میں غدود اور ہارمونز سے متعلق امراض کے ماہرین کے سیمینار میں شرکت کے لیے موجود ہے۔ وفد کی قیادت بین الاقوامی غدودی امراض کی سوسائٹی کے صدر ڈاکٹر سید عباس رضا کر رہے تھے، جبکہ اس میں مختلف ممالک کے طبی ماہرین شامل تھے۔ ملاقات میں وفاقی وزراء احد خان چیمہ اور سید مصطفیٰ کمال، وزیر مملکت برائے صحت ڈاکٹر ملک مختار برتھ اور متعلقہ اداروں کے اعلیٰ حکام بھی شریک تھے۔












