واشنگٹن ( پاک ترک نیوز) دنیا کے تیز ترین جنگی جاسوس طیاروں میں شمار ہونے والے امریکی ایس آر 71 بلیک برڈ کی دوبارہ پرواز کی امید پیدا ہوگئی، ناسا کے ایک مرکز میں نصب یادگاری طیارہ اچانک ہینگر منتقل کردیا گیا۔رپورٹس کے مطابق ناسا کے سربراہ جیرڈ آئزک مین نے ایک کانفرنس کے دوران ایک ایسے طیارے کا عکس دکھایا جس کا خدوخال ایس آر 71 بلیک برڈ سے انتہائی مشابہ تھا۔
انہوں نے کہا کہ ناسا اپنے تجرباتی طیاروں کے بیڑے کو دوبارہ فعال کر رہا ہے تاکہ انتہائی بلندی اور رفتار پر پرواز کے تجربات کیے جاسکیں۔
اسی دوران ناسا کے آرمسٹرانگ فلائٹ ریسرچ سینٹر میں موجود ایس آر 71 بلیک برڈ، جس کا دم نمبر 844 ہے، اپنی مخصوص جگہ سے ہٹا کر ہینگر منتقل کردیا گیا۔ یہ طیارہ ایس آر 71 سیریز کا آخری تیار ہونے والا اور آخری پرواز کرنے والا طیارہ تھا، جس نے 1999 میں آخری مرتبہ پرواز کی تھی۔ماہرین کے مطابق اگرچہ طیارے کی دوبارہ پرواز کے حوالے سے کوئی باضابطہ اعلان سامنے نہیں آیا، تاہم اسے مستقبل کے تیز رفتار تجرباتی طیاروں کی تیاری اور تحقیق کے لیے آزمائشی پلیٹ فارم کے طور پر استعمال کیے جانے کا امکان موجود ہے۔
طیارے کو دوبارہ پرواز کے قابل بنانا انتہائی مشکل اور مہنگا منصوبہ ہوگا۔ ماضی میں اس کی بحالی کی لاگت 4 سے 4 کروڑ 50 لاکھ ڈالر تک بتائی گئی تھی، جبکہ موجودہ دور میں یہ اخراجات مزید بڑھ سکتے ہیں۔ایس آر 71 بلیک برڈ کے انجن کے لیے خصوصی جے پی 7 ایندھن بھی درکار ہوتا ہے، جو عام طور پر تیار نہیں کیا جاتا، اس لیے دوبارہ پرواز کی صورت میں ایندھن کا انتظام بھی ایک بڑا چیلنج ہوگا۔
یہ بھی پڑھیں: جدید سینسرز اور ہتھیاروں سے لیس ایس یو 57 لڑاکا طیاروں کی نئی کھیپ روسی فضائیہ کے حوالے
فی الحال ناسا نے ایس آر 71 کو دوبارہ فضاؤں میں لانے کی تصدیق نہیں کی، تاہم اگر ایسا فیصلہ کیا گیا تو 27 سال سے زائد عرصے بعد بلیک برڈ کی دوبارہ پرواز ہوا بازی کی تاریخ کا ایک غیر معمولی واقعہ ہوگی۔






