اسلام آباد:(پاک ترک نیوز)پاکستان کے آئی ٹی شعبے نے پائیدار ترقی برقرار رکھتے ہوئے اپنی تاریخ کی بلند ترین ماہانہ برآمدات ریکارڈ کر لی ہیں۔ پہلی بار ایک ہی مہینے میں آئی ٹی برآمدات 400 ملین ڈالر سے تجاوز کر گئیں۔
اس سے قبل سب سے زیادہ ماہانہ آئی ٹی برآمدات اکتوبر 2025 میں 386 ملین ڈالر رہی تھیں۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق دسمبر 2025 میں آئی ٹی برآمدات بڑھ کر 437 ملین ڈالر تک پہنچ گئیں، جو گزشتہ سال اسی مہینے میں 348 ملین ڈالر تھیں۔ اس طرح سالانہ بنیاد پر 25 فیصد، یعنی 89 ملین ڈالر کا نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
ماہانہ بنیاد پر بھی آئی ٹی برآمدات میں مضبوط اضافہ دیکھا گیا، جہاں نومبر 2025 کے 356 ملین ڈالر کے مقابلے میں دسمبر میں 22 فیصد سے زائد نمو ہوئی۔آئی ٹی برآمد کنندہ ڈاکٹر نومان سعید کا کہنا ہے کہ حکومت کی مسلسل اور مستحکم پالیسیوں نے آئی ٹی برآمدات میں پائیدار ترقی کو ممکن بنایا ہے، جو آئندہ بھی حکومت اور نجی شعبے کے مشترکہ اقدامات سے جاری رہنے کا امکان ہے۔
ان کے مطابق آئی ٹی کمپنیاں اب بالخصوص خلیجی ممالک میں نئی منڈیوں کی تلاش میں ہیں، جبکہ روایتی مارکیٹس میں جدید ٹیکنالوجیز کی برآمدات بڑھا کر مجموعی حجم میں اضافہ کیا جا رہا ہے۔ڈاکٹر نومان سعید کے مطابق موجودہ رفتار برقرار رہی تو آنے والے مہینوں میں آئی ٹی برآمدات میں مزید اضافہ متوقع ہے۔
مالی سال کے پہلے چھ ماہ کے دوران، یعنی جولائی سے دسمبر تک، آئی ٹی شعبے کی برآمدات 2.23 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں، جبکہ گزشتہ مالی سال کے اسی عرصے میں یہ برآمدات 1.86 ارب ڈالر تھیں۔
اس طرح سالانہ بنیاد پر 19.5 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔پاکستان فری لانسرز ایسوسی ایشن (پیفلا) کے چیئرمین ابراہیم امین کا کہنا ہے کہ آئی ٹی ریمیٹینسز میں فری لانسرز کا کردار نہایت اہم ہے۔
انہوں نے بتایا کہ سرکاری اداروں اور این جی اوز کی جانب سے ملک بھر میں دی جانے والی تربیت کے باعث فری لانسرز کی تعداد اور معیشت میں ان کا حصہ مسلسل بڑھ رہا ہے۔ماہرین کے مطابق اگر یہی رفتار برقرار رہی تو مالی سال کے بقیہ چھ ماہ میں پاکستان کا آئی ٹی شعبہ 4.2 ارب سے 4.5 ارب ڈالر تک کی برآمدات حاصل کر سکتا ہے۔












