لاہور(پاک ترک نیوز) وزیر اطلاعات و ثقافت پنجاب عظمیٰ بخاری نے کہا ہے کہ خیبر پختونخوا دہشت گردی کی زد میں ہے جبکہ صوبے کا وزیراعلیٰ کنٹینر پر چڑھا ہوا ہے۔عظمیٰ بخاری کا کہنا تھا کہ 13 سال سے خیبر پختونخوا کی قسمت میں دھرنے، جلسے، ریلیاں اور لانگ مارچ ہی ہیں۔انہوں نے کہا کہ جب صوبے میں امن و امان اور روزگار نہیں ہوگا تو وہاں کے لوگ امن اور روزگار کے لیے دوسرے صوبوں کا رخ کریں گے۔صوبائی وزیر اطلاعات نے کہا کہ جو حکومت اپنے ہی لوگوں کو تحفظ فراہم نہیں کرسکتی، اسے حکومت میں رہنے کا کوئی حق نہیں۔عظمیٰ بخاری کے مطابق سہیل آفریدی واحد وزیراعلیٰ ہیں جو اپنے ہی صوبے میں لاؤ لشکر کے ساتھ مارچ کررہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: سعودی عرب نے نیوم میں 2.5 ارب ڈالر کا ورلڈ کپ اسٹیڈیم منصوبہ روک دیا
انہوں نے الزام عائد کیا کہ وفاق کے خلاف ہرزہ سرائی کے لیے سرکاری ہیلی کاپٹر کا استعمال عدالتی حکم کی خلاف ورزی ہے، جبکہ سرکاری وسائل کو جتھوں کی سیاست کے لیے استعمال کرنا تحریک انصاف کا پرانا وتیرہ ہے۔عظمیٰ بخاری نے کہا کہ سہیل آفریدی نے صوبے میں قیامِ امن کے بجائے دہشت گردوں کو تحفظ دینے کو ترجیح دی ہے۔انہوں نے دعویٰ کیا کہ خیبر پختونخوا اس وقت دہشت گردوں، منشیات فروشوں اور اسمگلروں کے رحم و کرم پر ہے۔صوبائی وزیر نے کہا کہ خیبر پختونخوا حکومت خود صوبے میں آئینی اقدام اٹھانے پر مجبور کررہی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ خیبر پختونخوا کے عوام کو کسی صورت دہشت گردوں اور جتھوں کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑا جاسکتا۔












